سیر کر دنیا کی
(الف میم منہاس)
ستر کتابوں کے مصنف کے ادبی کام کی بازیافت
’’سیر کر دنیا کی‘‘… ایک اہم سفرنامہ ہے جس میں مصنف قاری کو بیسویں صدی کے اوائل کے حالات سے روشناس کراتے ہیں۔ وہ دیگر اسباب کے علاوہ دیدہ بینا اور ہاتھ میں قلم لے کر سفر پر نکلتے ہیں۔ جو دیکھتے ہیں بلا کم و کاست اپنے قاری کو اس میں شریک کرتے چلے جاتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان ’’پیش گوئی مصلح موعود‘‘ میں الفاظ ہیں ’’ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے)۔ ‘‘ یہ پیشگوئی ۱۹۳۰ء میں اُس وقت پوری ہوئی جب آپؑ کے بڑے فرزند، خان بہادر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے اپنے سے عمر میں چھوٹے بھائی، پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانیؓ کے دستِ مبارک پر باقاعدہ بیعت کرلی۔

حضرت مرزا سلطان احمد صاحب بے پناہ خوبیوں کے حامل تھے۔ تحصیلداری سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے مرزا سلطان احمد صاحب کمشنر کے عہدے تک پہنچے۔ بہاولپور ریاست میں بھی خدمات سرانجام دیں، نیک شہرت پائی اور انگریز حکومت سے خان بہادر کا لقب بھی پایا۔ ۱۹۱۹ء میں جب آپ گوجرانوالہ میں قائم مقام ڈپٹی کمشنر کے طور پر ذمہ داری سرانجام دے رہے تھے تو جلیانوالہ باغ کے واقعہ کے نتیجے میں گوجرانوالہ میں فسادات بھڑک اٹھے۔ ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے آپ کو گولی چلانے کا حکم ملا لیکن: ’’گوجرانوالہ کے قائم مقام ڈپٹی کمشنر خان سلطان احمد ہجوم پر گولی چلانے کے حق میں نہ تھے۔ بعد ازاں تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو انہوں نے بیان دیا کہ ’’ریلوے اسٹیشن پر جمع ہجوم کا تقریباً چالیس فیصد حصہ نو عمر لڑکوں پر مشتمل تھا، اس لیے میرا ضمیر مجھے فائرنگ کا حکم دینے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ ‘‘ آپ نے فائرنگ کی بجائے وہاں تقریر کی اور بپھرے ہوئے ہجوم کو سمجھا کر غصہ فرو کیا۔ لیکن اسی روز، لیفٹیننٹ کرنل اے۔ جے۔ اوبرائن کے چارج سنبھالنے کے بعد کی گئی فائرنگ سے گوجرانوالہ میں تین افراد جان سے ہاتھ دو بیٹھے تھے۔ (https://roguenation.org/the-r-a-f-strafe-and-bomb-a-school-and-crowds-at-gujranwala/ )
آپ کو ادبی دنیا میں بھی شہرت ملی۔ شاید نئی نسل کے لیے بوجوہ بہت معروف نہ ہوں لیکن انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں ہندوستان کے اردودان طبقے میں ان کی منفرد پہچان تھی اور اپنے وقت کے معروف رسالوں میں کثرت سے شائع ہونے والے مصنف تھے۔ آپ نے ستّر کے قریب رسائل اور کتابیں لکھیں۔ اس وقت کے ہر قابل ذکر اردو رسالے میں آپ کی تحریریں شائع ہوتی رہیں۔ سیاست جدید کانپور نے آپ کی وفات پر لکھا کہ’’… بیسویں صدی کے شروع کے بیس سالوں میں اردو کے کسی بھی قابلِ ذکر رسالہ کو اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اس کے مضمون نگاروں میں مرزا سلطان احمد کا نام ضرور نظر آئے گا۔ عمومی، علمی و فلسفیانہ موضوعوں پر قلم اٹھا تے تھے۔ ان کے مضامین عام اور عوامی سطح سے بلند اور سنجیدہ مذاق والوں کے کام کے ہوتے تھے۔‘‘ (ابن سلطان القلم صفحہ۱۹۲)
اعلیٰ ادبی ذوق کے حامل حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے علامہ اقبال اوراکبر الٰہ آبادی جیسے لوگوں سے قریبی مراسم تھے۔ اکبر الٰہ آبادی کے آپ کے نام خطوط بھی شائع ہوچکے ہیں ان خطوط میں بھی اکبر، علامہ اقبال کے مرزا سلطان احمد صاحب کے بارے میں بلند خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ نے شاعری، ناول، لسانیات، تنقید، اخلاقیات، تصوف اور فلسفہ جیسے بہت ہی متنوّع اور دقیق موضوعات پرخامہ فرسائی کی۔ آپ نے ’’چند نثرنما نظمیں‘‘ کتاب بھی شائع کی جو اس زمانے کے لحاظ سے بہت آگے کی چیز تھی۔ بہت سا علمی مواد تقسیم کی نذر ہوگیا اور بہت سا وقت کی دھول میں گم ہوگیا۔ یہ تو اللہ بھلا کرے ریختہ کا، جس نے کچھ دستیاب کتابیں اپنی ویب سائٹ پرلگارکھی تھیں۔ پھر آپ کے پوتے حضرت صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب مرحوم کا کہ انہوں نے کچھ دستیاب چیزیں خلافت لائبریری کو دے رکھی تھیں۔
کچھ مضامین کے ذریعہ علم ہوا کہ آپ نے ۱۹۱۴ء میں یورپ کا دورہ کیا اور واپسی پر حج بھی کیا۔ آپ نے اس دوران سفر نامہ انگلستان و حجاز لکھا۔ کچھ تگ ودو کے بعد آپ کی چوتھی نسل کو سفرنامہ انگلستان تو مل گیا لیکن واپسی پر حجاز کا سفر اور حج کی ادائیگی سے متعلق مواد فی الحال دستیاب نہ ہوسکا۔ جو مل گیا اسے چھپوانے کا بیڑا سنگی پبلشرز کے برادرم کاظمی صاحب نے اٹھایا اور ’’سیر کر دنیا کی‘‘ کے عنوان سے اسے زیور طبع سے آراستہ کردیا۔ منگل ۱۹؍ مئی ۲۰۲۶ء کوبرادرم ڈاکٹر م۔ ن۔ احمد صاحب کی دعوت پر کاظمی صاحب، م۔م۔محمود اور راقم الحروف، حضرت مرزا سلطان احمد کے سفرنامہ لندن ۱۹۱۴ء کی تقریب رونمائی میں بطور سپیکر مدعو تھے۔ کاظمی صاحب جو کتابوں کے عاشق ہیں، ان کے خیال میں ۱۹۱۴ء میں یہ سفر نامہ جب شائع ہوا تو اس وقت تک اردو ادب میں گنتی کے چند سفرنامے ہی موجود تھے۔ ایک تو یہ کہ بہت کم لوگوں کو سیر کے اسباب میسر تھے اور دوسرا یہ صنف بھی نسبتاً نئی تھی۔ کاظمی صاحب نے بتایا کہ اسی دور میں اردو کے ایک معروف مصنف نے فرضی سفرنامہ لکھ ڈالا اور پھر کئی اور لوگوں نےبھی فرضی سفرنامے لکھے۔ لیکن حقیقی سفرناموں کی تعداد انگلیوں پہ گنی جاسکتی تھی۔ جس میں یورپ کے سفرنامے شاید آپ سے پہلے صرف یوسف خان کمبل پوش،سرسید احمد خان اور پیسہ اخبار کے منشی محبوب عالم جیسے لوگوں نے ہی تحریر کیے۔
’’سیر کر دنیا کی‘‘خاکسار راقم الحروف کے نزدیک ایک اہم سفرنامہ ہے جس میں مصنف قاری کو بیسویں صدی کے اوائل کے حالات سے روشناس کراتے ہیں۔ وہ دیگر اسباب کے علاوہ دیدہ بینا اور ہاتھ میں قلم لے کر سفر پر نکلتے ہیں۔ جو دیکھتے ہیں بلا کم و کاست اپنے قاری کو اس میں شریک کرتے چلے جاتے ہیں۔ پرشیا نامی بحری جہاز کے سفر کا احوال لکھتے ہیں۔ بمبئی سے روانگی، عدن، نہر سویز، پورٹ سعید،مارسیلز کے احوال لکھتے ہیں۔ پھر پیرس اور لندن کے مختلف مقامات اور ان شہروں کی خوبصورتی، حسن انتظام، صفائی ستھرائی اور ترقی کو سراہتے ہیں۔ پیرس میں مختصر قیام کے بارےلکھتے ہیں کہ ’’ دو چار دن پیرس میں رہنا گویا پیرس کو بدنام کرنا اور صفحہ سفر کو داغ لگانا ہے۔ اس شہر کو دیکھنے کے واسطے ہفتے نہیں مہینے چاہئیں، چار پانچ روز میں کیا کچھ سیر ہوسکتی ہے۔ تھوڑے سے وقفہ میں ہم جہاں تک پہنچ سکے پہنچے… اگر ایک طرف عیش پرستی ہے تو دوسرے طرف تدبر تفکر بھی ہے۔ اگر ایک طرف جنون تہذیب ہے تو دوسری طرف خوش آئند انسانیت ہے۔…‘‘ کھلے بازاروں درختوں اورفٹ پاتھ کا ذکر ہے۔ صفائی کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’صفائی کا وہ بندوبست ہے کہ پہروں سڑکوں اور بازاروں کے کنارے سفید کپڑے پہن کر پھرتے رہو، کیا مجال کہ کپڑے گرد آلود ہوں۔ ‘‘ مٹھائی اور قصائی کی صاف ستھری اور مکھیوں سے پاک یورپئین دکانیں ان کے لیے حیرت اور تقلید کا باعث ہیں :’’دکانوں میں خوش نما شیشہ کی الماریوں کے اندر ہر قسم کا گوشت دھرا رہتا ہے۔… ہندوستان کی طرح نہ مکھیاں، نہ کیڑے، نہ مکوڑے، نہ بلیاں، نہ چوہے۔ جس وقت دیکھو صاف، جب لو مصّفیٰ‘‘۔ پھر لکھتے ہیں :’’لنڈن میں پھر کر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بہت ہی کم ایسے لوگ ہوں گے جو گلیوں اور بازاروں میں تھوکتے ہیں۔… حسن تمدن کی دلیل ہے۔ ‘‘(بدقسمتی سے سو سال سے زائد عرصہ گذرنے کے بعد بھی ہمارا خطہ اس صفائی اور انتظامات سے محروم نظر آتا ہے)۔ ’’پیرس میں وہ عالم خاموشی نہیں جو لنڈن میں ہے۔ لنڈن کے کوچوں، گلیوں اور محلوں میں دن دیہاڑے بھی جا کر دیکھو تو تمہیں شہرِ خاموشاں نظر آئے گا۔ ‘‘
ہائیڈ پارک اور لندن لازم و ملزوم ہیں۔ اخبارات، ریلوے کے نظام، تھیٹر اور تعلیمی نظام کو جس حد تک دیکھ سکے اس پررطب اللسان نظر آتے ہیں۔ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں ہندوستان میں متعین رہ چکے انگریز آفیسرز میں سے کچھ کے ساتھ اور نواب آف بہاولپور سے لندن اور گردونواح میں ملاقات کی رودادیں لکھی ہیں اسی طرح ایک ہندوستانی نواب صاحب کی انگریز ساس کے ہاتھوں ان کے مہمانوں کی بنتی درگت کا ذکر بھی کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ آپ کے ساتھ جماعت غیرمبائعین کے مولوی صدر الدین صاحب نے ہندوستان سے لندن تک کا سفر کیا۔ پھر خواجہ کمال الدین صاحب کے پاس ووکنگ مسجد میں ٹھہرے لیکن الہٰی نوشتےکے مطابق تین کو چار کرنے والے مصلح موعودؓ کی بیعت میں آئے۔ آپ سفرنامے میں لکھتے ہیں:’’لند ن میں ہر دس منٹ کے بعد مختلف جوانب میں ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں۔ واٹر لو اور چیئرنگ کراس وغیرہ اسٹیشن شہرت رکھتے ہیں۔ چونکہ ٹرینیں عموماً مسلسل چلتی رہتی ہیں، اس لیے بڑے بڑے اسٹیشنوں پر بھی چنداں ہجوم نہیں ہوتا۔… بعض اسٹیشنوں پر مٹھائی وغیرہ خوردنی اشیا کی ایسی بلند الماریاں رکھی ہوئی ہیں جن میں پیسے ڈالنے سے خود بخود مٹھائی، بسکٹ وغیرہ چیزیں نکل آتی ہیں۔ ہر خانہ میں، جن میں پیسے ڈالے جاتے ہیں، مٹھائی اور بسکٹ وغیرہ کا نام لکھا ہوتا ہے۔ جس خانہ میں چاہے، کوئی پیسے ڈال کر چیز لے لے۔… ٹرین میں اگر کسی مسافر سے ٹکٹ گم ہو جائے یا کھوجائے تو وہ ٹکٹ کلرک کو آزادی سے کہہ سکتا ہے کہ میرا ٹکٹ گم ہو گیا ہے۔ قومی اعتبار کی حیثیت سےٹکٹ کلکٹر اس پر اعتماد کر لیتا ہے اور کوئی بازپرس نہیں کرتا۔ ہندوستان کی طرح خواہ مخواہ بد ظنی نہیں کی جاتی۔ ہمارے ہاں نہ تو ریل والے اعتبار کرتے ہیں اور نہ مسافرہی ہمیشہ راست بازی سے کام لیتے ہیں۔ ‘‘
زبان کے حوالے سے کتاب شستہ اور عام فہم ہے، سوائے اس کے کہ کچھ الفاظ اور ترکیبات سو سال پرانی ہیں جو یا تو متروک ہوچکی ہیں یا آج کا قاری فارسی اورعربی سے علاقہ نہ ہونے کی وجہ سےناآشنا ہے۔ اسی طرح معمولی کتابت کی غلطیاں تکنیکی وجوہات کے بنا پر رہ گئی ہیں۔ راقم الحروف نے پبلشر اور تقریب کے روح رواں ڈاکٹر مرزا نصیراحمد صاحب کو دست بستہ ان کے بارے میں نشاندہی بھی کی۔ مصنف کی کچھ اور کتابوں کی اشاعت کا بھی پروگرام ہے۔ لیکن اتنا کام ہے کہ ہمہ وقتی توجہ مانگتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ایک صاحب طرز مصنف اور انشاپرداز کی کتابوں کی بازیافت کا بہرحال آغاز تو ہوا۔ اس کتاب کو دوبارہ منصہ شہود پر لانے کے لیے مرزا سلطان احمد صاحب کی چوتھی نسل مبارک باد کی مستحق ہے۔
اس کتاب کے انگریزی زبان میں ترجمے کی اشاعت بھی زیرِ کارروائی ہے جو خاص طور پر بیرون ملک مقیم احباب، بالخصوص ایسے جوان طالب علموں کے لیے کیا جا رہا ہے جو اردو کو بسہولت نہیں پڑھ سکتے۔
(نوٹ: یہ کتاب سنگی پبلشرز سے حاصل کی جاسکتی ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی تشریح(از حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری رضی اللہ عنہ)




