افریقہ (رپورٹس)

فرافینی ریجن، گیمبیا کی جماعت نیانگا بنٹاں میں مسجد ’بیت السمیع‘ کا افتتاح

محض اللہ تعالیٰ کے فضل سےگیمبیا کے فرافینی ریجن کی ایک جماعت نیانگا بنٹاں (Nyanga Bantang) میں نئی مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی اور اس کی افتتاحی تقریب مورخہ ۱۹؍جولائی ۲۰۲۶ء بروزاتوار منعقد ہوئی۔ اس تقریب کی صدارت ریجن کے گورنر جناب عثمان صاحب نے کی۔ اس کے علاوہ اس موقع پر مکرم محمود احمد طاہر صاحب نائب امیر و مبلغ انچارج، ملک کے پانچ ریجنز کے ایریا مشنریز، احمدیہ سینٹینری پریس کے مینیجر مکرم محمد ظہیر احمد صاحب مبلغ سلسلہ، دیگر مربیان کرام، معلمین سلسلہ، صدران جماعت، عہدیداران و دیگر احمدی و غیر احمدی احباب شامل تھے۔ حکومتی سطح پر ریجن کے گورنر کے ساتھ ساتھ ڈپٹی گورنر، ضلع کا چیف، گاؤں کا الکالو و دیگر معتبر احباب نے شرکت کی۔ مسجد کی اس بابرکت افتتاحی تقریب میں مسجد کی تعمیر کروانے والے بھائی مکرم عطاءالکریم صاحب اور مکرم عطاءالمنان صاحب خاص طور پر اس تقریب کے ليے بیرون ملک سے تشریف لائے تھے۔

جماعت احمدیہ نیانگا بنٹاں میں احمدیت کا آغاز ۱۹۸۶ء میں ہوا جب ایک دوست مکرم ابوبکر سابلی صاحب اپنے طالب علمی کے دور میں قریبی قصبہ میں پڑھنے جاتے تھے اور جماعتی ہسپتال میں موجود احمدی ڈاکٹر کے ساتھ وقت گزارتے تھے جس سے انہیں احمدیت کا تعارف ہوا۔ ایک دن ریجنل مشنری ان کے گاؤں تبلیغ کرنے آئے وہاں سے ان کا رابطہ مربی صاحب سے ہوا اور انہوں نے ۱۹۸۹ء میں بیعت کرلی، الحمدللہ۔ بعدازاں مخالفت کے باوجود یہ احمدیت پر قائم رہے۔ ان کی تبلیغ سے بہت سے افراد نے احمدیت قبول کی۔ پھر انہوں نے شادی کی۔ ان کی دونوں بیویوں نے بھی بیعت کرلی۔ اب اللہ کے فضل سے اس جماعت کی ۳۰۰؍کے قریب تجنید ہے۔

تقریب کا باقاعدہ آغازدوپہر ساڑھے بارہ بجے تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد صدر جماعت نے احباب کو خوش آمدید کہا اور تشریف آوری پر شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد مکرم موسیٰ کجیرا صاحب جنہوں نے اس مسجد کی تعمیر کی تھی نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا کہ اس مسجد کا سنگ بنیاد گذشتہ سال جون میں رکھا گیا تھا۔ یہ تقریباً ایک سال میں مکمل ہوئی ہے۔ اس میں ۱۰۰؍افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔

گاؤں کے الکالو، جو غیر احمدی ہیں، نے جماعت احمدیہ کی خدمات اسلام کو سراہتے ہوئے جماعت اور مسجد کی تعمیر کروانے والوں کا شکریہ ادا کیا اور جماعت کو ایک پُرامن جماعت قرار دیا۔ انہوں نے حکومتی فیصلوں اور قوانین کی پابندی، خصوصاً عید کے اعلان کی پیروی، کا ذکر کیا۔ ضلع کے چیف نے بھی جماعت احمدیہ کی معاشرتی خدمات کو سراہتے ہوئے احباب کا شکریہ ادا کیا۔

مکرم عطاءالکریم صاحب نے بتایا کہ مسجد ’بیت السمیع‘ ان کے والد مرحوم کی خواہش تھی جسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے بیٹوں نے پورا کیا اور ان کے لیے دعا کی درخواست کی۔ ان کے بھائی مکرم عطاء المنان صاحب نے بھی اس توفیق پر شکر ادا کرتے ہوئے احباب کو مسجد کو نمازیوں سے آباد رکھنے کی تلقین کی۔

ریجن کے گورنر نے جماعت احمدیہ اور مسجد تعمیر کروانے والے خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جماعت کی ملک بھر میں تعلیمی، طبی اور تربیتی خدمات کو سراہا اور جماعت کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا۔ انہوں نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے گیمبیا کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی محبت اور ترقی کے لیے مدد کرنے کی ہدایت کا بھی ذکر کیا۔

آخر پر مکرم عثمان باہ صاحب ایریا مشنری بارا نے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد مکرم مبلغ انچارج نے اختتامی دعا کروائی۔ دعا کے بعد اجتماعی تصویر لی گئی۔ بعد ازاں نماز ظہر و عصر جمع کرکے ادا کی گئیں، مہمانوں نے مسجد کے گرد پھل دار پودے لگائے اور ظہرانہ پیش کیا گیا۔ یوں یہ بابرکت تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

اس تقریب میں ۱۰۰؍کے قریب افراد نے شرکت کی اور اس تقریب میں ملک کے سات میں سے چھ ریجنز کی نمائندگی ہوئی۔ الحمدللہ

اللہ کرے کہ یہ مسجد امن، اتحاد اور عبادت کا مینار بن جائے۔ آمین

(رپورٹ:مسعود احمد طاہر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: تعلیم الاسلام کالج اولڈ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، جرمنی کے زیر اہتمام ہیمبرگ میں محفل مشاعرہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button