حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

مسلمان ممالک کے مسائل کا حل

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۷؍مارچ۲۰۰۶ء)

خلیج کے بحران کے خطبات میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ممالک ہوش میں آئیں اور ان طاقتوں سے کہیں کہ ہم ان ممالک کو جو آپس میں لڑنے والے ہیں خود ہی سنبھال لیں گے تم دخل نہ دو۔ لیکن یہ مسلمان ممالک بھی ان کے مدد گار بنے رہے۔ اور ابھی تک بنے ہوئے ہیں۔ اب بھی اگر یہ مسلمان ملک مل کر کہیں کہ ہم مل کر امن قائم کروا دیں گے اگر مغربی طاقتیں نکل جائیں، تو شاید عراق میں کوئی امن کی صورت پیدا ہو جائے اور باقی ان ملکوں میں بھی امن کی صورت پیدا ہو جائے۔ افغانستان کا بھی یہی حال ہے۔ ایران بھی ان ملکوں کے خطرناک عزائم کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔ لیکن اگر یہ لوگ یہاں سے نکل جائیں اور یہ بھی آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں اور اس حدیث پر عمل کرنے والے ہوں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو سامنے رکھنے والے ہوں کہ اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ۔ وَاتَّقُوااللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (الحجرات:11) کہ مومن تو بھائی بھائی ہوتے ہیں پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ تو شاید بچ جائے۔

ایک تو عراق کے اندر جیسا کہ مَیں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی طرف سے صلح کی کوشش ہو تو شاید کامیابی ہو جائے ورنہ یہ بدامنی اور آگیں اور خود کش حملے اور ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ہاتھوں قتل، پتہ نہیں پھر کب تک چلتا چلا جائے گا۔

پھر بعض طاقتوں کی ایران کے اوپر نظر ہے اور زور یہ دے رہے ہیں کہ جو ایران اپنی ایٹمی توانائی پُرامن مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں، جو ہری توانائی استعمال کر رہے ہیں وہ بھی استعمال نہیں کرنا۔ کیونکہ اس سے پھر آگے نکل کر وہ اس کو دوسرے مقاصد کے لئے بھی استعمال کریں گے۔ یہ حکومتیں اپنے لئے ہر حق رکھتی ہیں کہ ہم جو چاہیں کریں لیکن دوسرا نہیں کر سکتا۔ تو مسلمان ممالک اگر مل کر یہ جائزہ لے لیں، ایران کو بھی سمجھائیں، بھائی بھائی بن کے بیٹھیں اور اس بات کی تسلی کرلیں اور دنیا کو پھر اس بات کی ضمانت دے دیں کہ ہم جو مسلمان ممالک ہیں ہر چیز انسانی فلاح و بہبود کے لئے کرنے والے ہیں، غلط کام نہیں کریں گے تو سارے معاملات سلجھ جائیں گے اور سلجھ سکتے ہیں لیکن یہ بھی ہے کہ پھر تم بھی ہمیں یہ ضمانت دو گے کہ آئندہ ہمارے معاملات میں تم کبھی دخل نہیں دو گے۔ تعمیری منصوبوں کے لئے اگر ہمیں مدد چاہئے ہو گی تو لے لیں گے، فوجی کارروائیاں ہمارے ملکوں کے خلاف نہیں ہوں گی۔ اگر اس طرح ہو تو معاملے سلجھ سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمان ممالک بظاہر یہ کوشش کر نہیں سکتے اور ضمانت دے نہیں سکتے کیونکہ تقویٰ کی کمی کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کی مثال ہے، یہ مثال حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے خطبات میں دی تھی کہ اس کی اسلامی دنیا سے غدّاریاں تاریخی نوعیت کی ہیں اور ہمیشہ دھوکہ دیتا رہا ہے۔ اس بات کو یہ امریکن جس کی کتاب کا مَیں نے ذکر کیا ہے اس نے بھی لکھا ہے کہ سعودی عرب تو اب اس طرح مغرب اور امریکہ کے شکنجے میں ہے کہ اس سے نکل نہیں سکتا۔ اس نے لکھا کہ موجودہ حکومت کو قائم رکھنے کی ضمانت امریکہ نے اس شرط پر دی ہے کہ ہمارے مفادات کی حفاظت کرو گے۔ تو اللہ تعالیٰ کا جو یہ حکم ہے کہ تقویٰ اختیار کرو، وہی ان میں ختم ہو گیا ہے تو امن کس طرح قائم کروا سکتے ہیں۔ حالانکہ مکّہ اور مدینہ کی وجہ سے اس خاندان کا اور سعودی عرب کا مسلمانوں پر بڑا اثر ہو سکتا ہے، اگر تقویٰ سے کام لیں۔ اور امریکہ کا خوف رکھنے یا مغرب کا خوف رکھنے کی بجائے خدا کا خوف رکھنا ثابت کر دیں۔ تو تمام مسلمان ممالک جن کو ان سے شکوے بھی ہیں وہ بھی ان کی بات ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن یہ اتنے بدنام ہو چکے ہیں کہ اب اگر نیک نیت ہو بھی جائیں اور یہ کوشش بھی کریں تو پھر بھی اپنی ساکھ قائم کرنے میں ان کو کئی سال لگیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی فلاح کا جو وعدہ کیا ہے، یہ تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے۔ تو اگر اپنی دنیاوی ہو اوہوس نہ چھوڑی تو جیسا کہ آثار ہیں عراق کے بعد اب ایران پر بھی پابندیاں ہیں اور ہو سکتا ہے اور بھی سختیاں ہوں۔ پھر کہتے تو یہی ہیں کہ حملہ نہیں کریں گے لیکن کوئی بعید نہیں۔ پھر کسی اور ملک پرپابندیاں ہوں گی اور اس کی تباہی ہو گی۔ پھر ایک ایک کرکے تمام مسلمان ملک اپنی ابتری اور تباہی کی طرف قدم بڑھا رہے ہوں گے یا کم از کم ان کی لسٹ میں ہوں گے۔ اور اگر کوئی بچنے کی صورت ہو گی تو جن کے قدرتی وسائل ہیں وہ اپنے قدرتی وسائل اپنی اقتصادیات ان لوگوں کے قبضے میں دے رہے ہوں گے۔

تو اسلامی دنیا کو اس طرف کسی طرح توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔ جماعت کے خلفاء نے ان کو ماضی میں بھی اس بارے میں سمجھانے کی کوشش کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے بڑی تفصیل سے سمجھایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 16-17سال پہلے سمجھایا لیکن ان لوگوں نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی، کوئی وقعت نہیں دی۔ بلکہ دنیا کے ہر ملک میں احمدیت کی مخالفت پہلے سے زیادہ بڑھ کے ہونے لگی۔ اگر ہم کوشش کریں بھی تو اب بھی شاید ہماری آواز پر کوئی توجہ نہ دے۔ لیکن ہر احمدی کو دعا کے ساتھ ساتھ مسلمان اُمّت کو سمجھانا چاہئے کہ اُمّت کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے آپس میں ایک ہونے کی کوشش کرو۔ جو بھی زرخیز ذہن کے رہنما ہیں وہ مل کر بیٹھیں اور سوچیں کہ کیا وجہ ہے کہ مختلف وقتوں میں جو کوششیں ہوتی رہیں کہ مسلم اُمّہ ایک ہو جائے اور مسلمان ممالک کا خیال رکھے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم بھی قائم کی گئی لیکن پھر بھی ہر معاملے میں مغرب کے دست نگر ہیں۔ نہ عرب ایک قوم بن کر عربوں کو اکٹھا کر سکے یعنی اس طرح اکٹھا ہونا جس سے ایک طاقت کا اظہار ہو۔ نہ پھر بڑے دائرے میں مسلمان ممالک ایک ہو کر اپنی حیثیت منو اسکے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں۔ کئی وجوہات تو پہلے بیان ہوچکی ہیں جن کا مَیں ذکر کر چکا ہوں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے بیان کی تھیں۔ لیکن اہم وجہ جو ہے اُس طرف یہ لوگ آنا نہیں چاہتے یعنی جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ تقویٰ کی راہ اختیار کرو۔ اور یہ راہ اب اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مانے بغیر ان کو مل نہیں سکتی۔ اس لئے یہ جو کہا جاتا ہے کہ اگر مسلم اُمّہ تقویٰ پر چلے تو پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق رحم ہو گا اور آئے دن کی زیادتیوں اور ظلموں سے ان کی جان بچے گی۔ لیکن یہ اگر، بہت بڑا اَگر ہے جس کی طرف جیسا کہ مَیں نے کہا یہ لوگ آنا نہیں چاہتے، زمانے کے امام کو ماننے کی طرف سوچنا نہیں چاہتے۔

تو احمدی کی ذمہ داری صرف اتنی نہیں ہے کہ جہاں تک بس چلے ان کو سمجھائے کہ مسلمان ایک قوم ہونے کی کوشش کریں تاکہ ان کی دنیاوی طاقت اور ساکھ قائم ہو۔ دشمن کو ان کی طرف آنکھ اٹھانے سے پہلے کئی دفعہ سوچنا پڑے کیونکہ یہ ایک طاقت ہیں۔ یہ اظہارہو کہ مسلمان بھی ایک طاقت ہیں۔ یا پھراحمدی ان کے لئے دعا کریں۔ یہ دعا بھی بہت اہم چیز ہے بلکہ سب سے اہم چیز دعا ہی ہے اور بڑا ضروری ہتھیار ہے۔ اور ساتھ ہی ایک مہم کے ساتھ ان لوگوں کو، مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی جائے کہ اس زمانے کے امام کو مانے بغیر نہ تمہاری طاقت قائم ہو سکتی ہے، نہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو سکتا ہے۔ ملکوں ملکوں میں فرقہ بندی ہے، یعنی اس وجہ سے اندرونی بٹوارے ہوئے ہوئے ہیں۔ پھر ایک ملک دوسرے ملک سے اس فرقہ بندی کی وجہ سے خار کھاتا ہے۔ غیروں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور یہ اسی حالت زار کا نتیجہ ہے کہ عرب دنیا میں عیسائیت نے بھرپور حملہ کیا ہوا ہے۔ مَیں نے بچوں کی کہانیوں کی ایک کتاب دیکھی۔ اس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے ماننے والوں کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں پر کہانی کہانی میں فوقیت ظاہر کی گئی ہے۔ اور آخر میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان بچہ مایوس ہو کر عیسائیت کے بارے میں سوچتا ہے۔ اور آج کل کیونکہ ترقی کے لئے، دنیا کے علوم سمجھنے کے لئے انگریزی زبان کو ضروری سمجھا جاتا ہے اس لئے انگریزی زبان سکھانے کے بہانے اس قسم کی کہانیاں بچوں میں متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ تو یہ بھی ایک لمبے عرصے کی منصوبہ بندی ہے۔ عیسائیت خود تو ان ممالک میں مذہب کے لحاظ سے آہستہ آہستہ ختم ہو گئی ہے یا ہو رہی ہے۔ لوگ مذہب سے لاتعلق ہیں۔ نام کے عیسائی ہیں، عمل تو کوئی نہیں۔ تو ان کے خیال میں چند نسلوں کے بعد اس طریقے سے، جو اَب بچوں میں اختیار کیا گیا ہے اسلام پر عمل کرنے والے بھی نہیں رہیں گے۔ اور یوں اِن تیل پیدا کرنے والے اور قدرتی وسائل رکھنے والے ممالک کی اقتصادیات پر بلا کسی خطرے کے ان کا قبضہ ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: اللہ تعالیٰ کے بندوں کے اوصاف

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button