جرمنی سے مسجد بیت الفتوح تک۔ امن سائیکل ٹور کے شرکاء کا پرتپاک استقبال

جلسہ سالانہ برطانیہ کے ساٹھویں جلسہ میں شرکت کے لیے جرمنی سے بیت الفتوح تک سائیکل سفر مکمل کرکے پہنچنے والے بین الاقوامی سائیکل سواروں کے اعزاز میں ۲۲؍جولائی کی شام ایک خصوصی استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پرمسجد بیت الفتوح کے بیرونی احاطہ میں سینکڑوں احبابِ جماعت، خواتین، بچے، بزرگ اور نوجوان، سائیکل سواروں کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ بچوں نے رنگ برنگی جھنڈیاں لہرا کر جبکہ حاضرین نے نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، جماعت احمدیہ عالمگیر زندہ باد اور غلام احمد کی جے کے پُرجوش نعروں کےساتھ مہمان سائیکل سواروں کا استقبال کیا، جس سے انتہائی پرجوش اور روح پرور ماحول پیدا ہوگیا۔ اس بین الاقوامی قافلے میں مجموعی طور پر ۲۵؍سائیکل سوار شامل تھے، جن میں۲۰؍جرمنی، ۲؍امریکہ، ۲؍نیدرلینڈز اورایک متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ قافلہ مکرم عبد اللہ واگس ہا ؤزرصاحب امیر جماعت احمدیہ جرمنی کی قیادت میں جرمنی سے روانہ ہو کر۲۲؍جولائی کی شام تقریباً ساڑھے چھ بجے مسجد بیت الفتوح پہنچا۔
یہ امن سائیکل سفر (Peace Cycle Tour) ہر سال منعقد کیا جاتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد اسلام کی حقیقی، پُرامن تعلیمات اور بھائی چارے کا پیغام دنیا تک پہنچانا ہے۔ اس سفر کے دوران سائیکل سوار تقریباً آٹھ سو کلومیٹر کا طویل اور کٹھن فاصلہ طے کرتے ہیں۔ یہ قافلہ جرمنی سے روانہ ہو کر نیدرلینڈز، بیلجیم اور فرانس سمیت متعدد ممالک سے گزرتا ہوا فَیری کے ذریعے انگلش چینل عبور کرکے برطانیہ پہنچتا ہے۔ سفر کے دوران شرکاء کو شدید تھکن، بدلتے ہوئے موسمی حالات، بارش، تیز ہواؤں اور مصروف شاہراہوں پر سائیکل چلانے جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم وہ عزم، صبر اور باہمی تعاون کے جذبے کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ راستے میں مختلف ممالک کی احمدیہ مساجد میں ان کے قیام اور آرام کا انتظام کیا جاتا ہے، جہاں مقامی جماعتیں ان کی پُرتپاک مہمان نوازی کرتی ہیں۔
استقبالیہ تقریب میں مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر صاحب جماعت احمدیہ یوکے نے تمام سائیکل سواروں کو یادگاری میڈلز پہنائے اور اپنے خطاب میں ان کی ہمت، استقامت، جذبۂ قربانی اور جلسہ سالانہ میں شرکت کے غیر معمولی شوق کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا پُرتپاک خیر مقدم کیا۔ بعد ازاں امیر صاحب جرمنی نے بھی اپنے خطاب میں سائیکل سواروں کی حوصلہ افزائی کی اور اس کامیاب سفر کو اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے امیر صاحب یوکے، انتظامیہ اور تمام احبابِ جماعت کا پُرتپاک استقبال، محبت اور مثالی مہمان نوازی پر دلی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جرمن زبان میں بھی نعرے بلند کیے، جن میں جماعت احمدیہ کا عالمی شعار ‘محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں’ شامل تھا، جس کا حاضرین نے بھرپور جوش و خروش سے جواب دیا۔ محترم امیر صاحب یوکے نے اختتامی دعا کروائی۔

بیت الفتوح میں مختصر قیام، آرام اور دعا کے بعد یہ قافلہ اپنی آخری منزل حدیقۃ المہدی، آلٹن روانہ ہوا تاکہ جلسہ سالانہ برطانیہ میں شامل ہو سکے۔ سائیکل سواروں کے مطابق اس طویل اور مشقت بھرے سفر کے بعد جب انہیں اپنے روحانی پیشوا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیارت اور ملاقات کا شرف حاصل ہوتا ہے تو ان کی تمام جسمانی تھکن لمحوں میں دور ہو جاتی ہے اور یہ روحانی کیفیت ان کے لیے اس پورے سفر کا سب سے قیمتی انعام ہوتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر تمام سائیکل سواروں کی پُرتکلف عشائیے سے تواضع کی گئی۔
یہ امن سائیکل ٹور نہ صرف عزم، ہمت اور استقامت کی ایک روشن مثال ہے بلکہ جماعت احمدیہ کے عالمی پیغام محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں کو عملی طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
(رپورٹ: لطیف احمد شیخ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)



