یورپ (رپورٹس)

جلسہ سالانہ کا دوسرا دن۔ رپورٹ از جلسہ گاہ مستورات جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۶ء

محض خداتعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ جرمنی کے دوسرے روز کا آغاز مردانہ جلسہ گاہ میں چار بجکر پینتالیس منٹ پر نماز تہجد و نماز فجرکی باجماعت دائیگی سے ہوا۔جلسہ گاہ مستورات میں اجتماعی قیامگاہوں میں ٹھہرنے والی ممبرات کی حاضری ۳۴۰۰؍رہی۔ درس القرآن کے بعد ساڑھے سات بجے شعبہ ضیافت کے تحت ناشتہ کاانتظام کیا گیا۔بعد ازاں لجنہ ممبرات و ناصرات نے جلسہ گاہ کا رُخ کیا،کیونکہ چند لمحات میں لجنہ سیشن کا آغاز ہونے والا تھا۔

جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۶ء کے دوسرے دن حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ گاہ مستورات میں آن لائن براہ راست بصیرت افروز خطاب فرمانا تھا، اس بات نے بلاشبہ ہمارے جلسہ کی رونقوں کو دوبالا کر دیا۔ اِس خوش قسمتی پر لجنہ ممبرات وناصرات وبچگان نازاں تھے۔ ہر دل اشکبار آنکھوں سے شکر خداوندی بجالانے میں مشغول تھا۔ خلافت سے اطاعت وو فا کے جذباتی مناظر بھی مشاہدہ میں آئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں اِس نعمت عظمیٰ کاامین بنائے اور حضور انور کے ہر ارشاد پر فوری لبیک کہنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔آمین

شعبہ رجسٹریشن ،نظم وضبط اور سیکیورٹی کی کارکنات دونوں گزرگاہوں پر ممبرات کے کارڈ اور سامان چیک کرکے انہیں مرکزی پنڈال اور کم عمر بچوں کی مارکیزمیں ترتیب سے بٹھا رہی تھیں۔نظم و ضبط اور تربیتی کمیٹی کی کارکنات اپنی کاوشوں میں مصروف عمل رہیں۔ آب رسانی کی سہولت بھی موجود تھی، چھوٹی بچیاں سبز رنگ کے کپڑے کی پٹیاں پہنےجذبہ، شوق اور لگن سے پانی پلا کر دُعائیں سمیٹ رہی تھیں۔ شعبہ ضیافت اورنظافت کی کارکنات کی کاوشیں بھی قابل تعریف تھیں۔

جلسہ گاہ مستورات میں اجلاس کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے مکرمہ حامدہ سوسن چودھری صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ جرمنی کی زیر صدارت قرآن کریم کی سورۃ الحشر کی آیات ۱۹ تا ۲۵ کی تلاوت سے ہوا جو مکرمہ عائشہ احمد صاحبہ نے کی اور اُس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔ مکرمہ خنساء طارق صاحبہ نے کلام محمود کی نظم ’’ذکرِ خدا پہ زوردے ظلمتِ دِل مٹائے جا‘‘ میں سے منتخب اشعار ترنم سے پڑھے۔ بعد ازاں مکرمہ انیلہ احمد صاحبہ ریجنل صدر Hessen Mitteنے ’’عورتوں کی حقیقی آزادی۔حیا‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں تقریر کی۔ مکرمہ امۃ الجمیل غزالہ صاحبہ نائب صدر، سیکرٹری تعلیم و پرنسپل عائشہ اکیڈمی نے ’’قرآن خدا نما ہے خدا کا کلام ہے‘‘ کے موضوع پر اردو زبان میں تقریر کی۔ اس اجلاس کی آخری تقریر مکرمہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ جرمنی نےجرمن زبان میں ’’تربیت اولاد میں احمدی ماں کا کردار‘‘ کے موضوع پر کی۔

اِس دوران بیک وقت دس زبانوں عربی، اردو، جرمن، انگریزی، بوسنین، فرانسیسی، رشین، البانین، تُرکی اور ہسپانوی میں تراجم کا انتظام کیا گیا تھا۔دوپہر بارہ بجے اس اجلاس کا اختتام ہوا اور پھر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے براہ راست خطاب کی تیاریاں شروع کی گئیں ۔ریہرسل جاری تھیں اور شاملین بیتابی سے منتظر تھے۔ دُعاؤں اور درودشریف کے ورد سے جلسہ گاہ کی فضامعطر تھی۔

دوپہر بارہ بجکر پینتیس منٹ پر سٹیج کے عقبی جانب لگائی گئی سکرین پر پیارے آقا کارخ انور نمودار ہوا تو اسلام آباد اور جرمنی سے بیک وقت پُرجوش نعرہ ہائے تکبیر بلند کیے گئے۔ پیارے آقا کے السلام علیکم کا تحفہ پیش کرنے کے بعد باقاعدہ کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کر یم سے ہوا۔ نظم اورتعلیمی اعزازات کے اعلان کے بعد تقریباً ایک بجے حضورانور نے آن لائن بصیرت افروز خطاب فرمایاجوپینتالیس منٹ تک جاری رہا اور دُعا کروائی۔لجنہ ممبرات و ناصرات کےایک گروپ کی جانب سے دُعائیہ نظمیں اور ترانے پیش کیے گئے اور فلگ شگاف نعرے بلند کیے گئے۔ عجب روحانی ماحول تھا، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس مجلس کو فرشتوں نے اپنے حصار میں لیا ہوا ہے۔ ہر آنکھ نم تھی اور زیر لب دُعائیں تھیں۔ تقریباً ایک بجکرپینتالیس منٹ پر حضور انور واپس تشریف لے گئے۔ اِس اجلاس کے دوران مرکزی پنڈال میں مکمل خاموشی اور ڈسپلن کا اعلیٰ معیار تھا۔ جلسہ گاہ کے بیرونی گراؤنڈ میں موجود بڑی سکرین پر اس اجلاس کی کارروائی نشر کی گئی ۔

آج جلسہ گاہ مستورات کے دیگر پروگراموں میں دورانِ وقفہ ایک مباحثہ کروایا گیا جس میں ممبرات لجنہ بھی شامل ہوئیں۔ آج مستورات کی کثیر تعداد نے مردانہ جلسہ گاہ میں ۵۰ویں جلسہ سالانہ کے موقع پر لگائی گئی نمائش میں بھی شرکت کی۔نیز شعبہ وقف نو کی نمائش پر نوجوان بچیوں اور لجنہ ممبرات نے VR headset کے ذریعہ قادیان کی مقدس بستی کے نظارے کیے۔جلسہ سالانہ کے دوسرے روز لجنہ اماء اللہ کی کُل حاضری ۱۹ ہزار ۴۹۴ رہی۔

(رپورٹ: لبنیٰ ثاقب۔ ناظمہ رپورٹنگ جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۶ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جامعہ احمدیہ تنزانیہ میں سالانہ کھیلوں کاانعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button