معززین کے تہنیتی پیغامات و تاثرات
۶۰ویں جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر معززین کی طرف سے موصول ہونے والے پیغامات
دوسرے روز کا دوسرا اجلاس
مورخہ ٢٥؍جولائی ٢٠٢٦ء بروز ہفتہ، جلسہ سالانہ برطانیہ کے دوسرے روز کے دوسرے اجلاس سے قبل مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کی زیرِ صدارت ایک مختصر نشست منعقد ہوئی، جس میں جلسہ سالانہ کے اس بابرکت موقع پر مختلف معززین کی جانب سے موصول ہونے والے تہنیتی پیغامات اور تاثرات پیش کیے گئے۔

سب سے پہلے مکرم امیر صاحب نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہر سال ہفتہ اور اتوار کے روز ہم ایک نہایت خصوصی نشست کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے والی ممتاز اور معزز شخصیات اپنے تاثرات اور پیغامات پیش کرتی ہیں۔ الحمدللہ، اس سال بھی ہم میں کئی معزز مہمان موجود ہیں، اور ان شاء اللہ ہم چند ہی لمحوں میں ان کے خیالات سنیں گے۔
اس نشست کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کی سعادت مکرم فہیم ظفرالله صاحب کو حاصل ہوئی۔
اس کے بعد اُنیس معززین کے تہنیتی پیغامات پیش کیے گئے۔ ان میں سے۹؍ معززین کے ویڈیو پیغامات جلسہ گاہ میں نصب بڑی سکرین پر حاضرین کو دکھائے گئے اور سنائے گئے۔ جبکہ دیگر دس معزز مہمانوں کو حاضرینِ جلسہ سے براہِ راست مخاطب ہونے کا بھی موقع ملا۔
جن احباب و خواتین کے ویڈیو پیغامات پیش کیے گئے یا جنہیں براہِ راست خطاب کرنے کا موقع میسر آیا، ان کی تفصیل بالترتیب درج ذیل ہے۔
Reverend and Rt Hon Lord Wallace OBE (House of Lords),
Ross Garrod (Leader of Merton Borough Council),
Frances Hume (Director, Interfaith Scotland),
Emily Darlington MP (MP for Milton Keynes Central),
Cllr Robert Aldridge (Rt Hon Lord Provost of Edinburgh),
Hon Koigi wa Wamwere (Former Deputy Minister Ministry of Information and Communication – Kenya),
Revd Gareth Jones (Co-Chair– Edinburgh Interfaith Association & Board Member for Interfaith Scotland),
Rev Fergus Cook (Minister at Blackhall St Columba’s Parish Church– Edinburgh)
Dr Caroline Hull (Director, Aid to the Church in Need),
Rt Hon Jeremy Hunt MP (Former Chancellor of the Exchequer and MP for Godalming and Ash),
Bobby Dean MP (MP for Carshalton and Wallington),
Greg Stafford MP (Secretary for the APPG for the Ahmadiyya Muslim Community),
His Royal Majesty Alaiyeluwa Oba Kehinde Gbadebo Olugbenle (Olowu of Owu and Paramount Ruler of Egbaland Ogun State, Nigeria),
Prof. Brett Scharffs (Director of the International Center for Law and Religion Studies),
Stefanie Jansen (Mayor of Heidelberg, Germany),
Archbishop Angaelos OBE (Coptic Orthodox Archbishop of London),
Reverend Bernard Longley (Archbishop of Birmingham),
Abdelhaq Sari MP (Member of Canadian Parliament for Bourassa),
Dr Farid F. Saenong (Lecturer, Indonesian International Islamic University)
امیر صاحب نے ہر معزز مہمان کے پیغام پیش کیے جانے سے قبل ان کا مختصر تعارف کروایا اور جماعت احمدیہ کے ساتھ ان کے خصوصی تعلق کا بھی ذکر کیا۔ ذیل میں ان معززین کے تہنیتی پیغامات اور تاثرات میں سے بعض کا انتخاب اختصار کے ساتھ پیش ہے۔
٭…Reverend and Rt Hon Lord Wallace OBE House of Lords: مَیں ایوانِ پارلیمنٹ کی جانب سے جماعت احمدیہ کے تمام دوستوں اور حضرت مرزا مسرور احمد صاحب( ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز )کی خدمت میں دلی سلام اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔ مَیں عالمی سطح پر آپ کی گراں قدر خدمات پر بھی اظہارِ تشکر کرنا چاہتا ہوں، بالخصوص مذہب اور عقیدے کی آزادی کے حق کے فروغ کے لیے آپ کی مسلسل کاوشوں اور قائدانہ کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
٭…Ross Garrod (Leader of Merton Borough Council): مَیں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ( ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ) کی عظیم قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور امن و انصاف کے قیام کے لیے آپ کی انتھک جدوجہد اور مسلسل کاوشوں کو سراہتا ہوں۔
٭…Frances Hume (Director, Interfaith Scotland):جماعت احمدیہ مسلمہ عرصہ دراز سے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ، ہر پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے خیرمقدم اور معاشرے کی مشترکہ بھلائی کے لیے باہمی تعاون کی حوصلہ افزائی میں نہایت گراں قدر کردار ادا کرتی چلی آ رہی ہے۔
٭…Emily Darlington (MP for Milton Keynes Central): مختلف پس منظر اور عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان محبت، افہام و تفہیم اور باہمی احترام کے پل تعمیر کر کے آپ اُن مضبوط رشتوں کو فروغ دے رہے ہیں جو ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ متحد کرتے ہیں۔مَیں حضورِ انور اور تمام حاضرینِ جلسہ کے لیے ایک نہایت کامیاب، بابرکت اور روحانی بصیرت سے بھرپور جلسہ کی دلی نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہوں۔
٭…Robert Aldridge (Rt Hon Lord Provost of Edinburgh): شہرِ ایڈنبرا کی نمائندگی کرتے ہوئے، مَیں سب سے پہلے یہاں ایڈنبرا میں موجود جماعت احمدیہ کا، اور پھر دنیا بھر میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ کا دلی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ انسانیت کی خدمت اور معاشرے کی بہتری کے لیے جو عظیم کام انجام دے رہے ہیں، وہ نہایت قابلِ قدر اور قابلِ ستائش ہے۔
٭…Hon Koigi wa Wamwere (Former Deputy Minister, Ministry of Information and Communication – Kenya): اس جلسہ کے انعقاد کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جس میں عصرِ حاضر کے نہایت اہم موضوعات، یعنی امن اور انصاف پر گفتگو کی جا رہی ہے کیونکہ امن اور انصاف کے بغیر دنیا کا قائم رہنا ممکن نہیں۔
٭…Revd Gareth Jones (Co-Chair – Edinburgh Interfaith Association & Board Member for Interfaith Scotland): مَیں آپ کا اس بات پر بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کا اپنے مقامی علاقوں اور معاشروں میں فراخ دلی اور جذبۂ خدمت کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
٭…Rev Fergus Cook (Minister at Blackhall St Columba›s Parish Church – Edinburgh): آپ کا دیرینہ عزم ’محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں‘ کے اصول پر ہمیشہ قائم رہنا، اُن اعلیٰ اقدار کی ایک مؤثر یاد دہانی ہے کہ جو ہماری تمام برادریوں اور پوری دنیا کے لیے اُمید کا پیغام بن سکتی ہیں۔
٭…Dr Caroline Hull (Director, Aid to the Church in Need): مَیں آپ سے ایک کیتھولک عیسائی کی حیثیت سے مخاطب ہوں، جو دنیا کے سب سے بڑے مذہبی گروہوں میں سے ایک ہے۔ لیکن دنیا بھر میں بہت سے عیسائی بھی اپنے ایمان کی وجہ سے ظلم و ستم کا شکار ہیں، اور مَیں جانتی ہوں کہ جماعت احمدیہ کو بھی شدید مشکلات اور تکالیف کا سامنا ہے۔
مَیں پاکستان جا چکی ہوں اور مَیں نے وہاں کے حالات اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیے ہیں۔ میں دیگر ممالک میں بھی گئی ہوں، جہاں مذہبی اقلیتیں مشکلات اور تکالیف کا سامنا کر رہی ہیں۔
لہٰذا مَیں چاہتی ہوں کہ آپ جانیں کہ مَیں اور میری برادری آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم جماعت ِاحمدیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا کو ایک بہتر اور محفوظ جگہ بنایا جا سکے، جہاں کسی بھی شخص کو صرف اس لیے تکلیف برداشت کرنے پر مجبور نہ کیا جائے کہ وہ پُرامن طور پر اپنے مذہبی عقیدے پر عمل کر رہا ہے۔
مَیں نہایت عاجزی اور تشکر کے ساتھ آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ ہمارے اسٹال پر تشریف لائیں اور ہماری آرٹیکل ۱۸؍پٹیشن پر اپنے دستخط کریں، جو جماعت ِاحمدیہ کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
ہم سب سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) کو جانتے ہیں اور اُس عظیم کردار سے بھی واقف ہیں جو انہوں نے اس مؤقف کے لیے ادا کیا کہ کسی بھی شخص کو اپنے ایمان کی وجہ سے ظلم و ستم کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
آج مجھے مدعو کرنے، میرے لیے محبت اور خلوص کا اظہار کرنے اور میرا پُرتپاک استقبال کرنے پر آپ کا بہت شکریہ۔
٭…Rt Hon Jeremy Hunt MP (Former Chancellor of the Exchequer and MP for Godalming and Ash): مَیں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ءمیں شامل ہونے والے تمام احباب کے لیے اپنی دلی اور پُرخلوص نیک تمناؤں کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔سو (۱۰۰) سے زائد ممالک کی نمائندگی کے ساتھ، یہ جلسہ ایک سادہ مگر عظیم پیغام کے تحت منعقد ہو رہا ہے کہ ’محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں‘۔
یہ امن اور مصالحت کا وہ عالمی پیغام ہے کہ جسے جماعت احمدیہ نے دنیا کے مختلف حصّوں میں ہمیشہ فروغ دیا ہے۔ آج کے اس دَور میں، جب دنیا بھر میں کشیدگی، تنازعات، جنگیں اور انسانی تکالیف جاری ہیں، اس پیغام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ہم سب کو اس بنیادی پیغام کو یاد رکھنا چاہیے کہ ’محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں‘۔ مَیں آپ سب کے لیے ایک نہایت کامیاب، بابرکت اور شاندار جلسہ سالانہ کے لیے اپنی دلی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
٭…Bobby Dean (MP for Carshalton and Wallington): مَیں سب سے پہلے اُن تمام رضاکاروں کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جن کی انتھک محنت، خلوص اور خدمت کے جذبے سے یہ عظیم اجتماع ممکن ہو رہا ہے۔ اگر یہی کام ملازمین کے ذریعے کروایا جائے تو اس پر بہت زیادہ اخراجات اُٹھیں گے۔مجھے کیٹرنگ اور پروڈکشن لائن کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا، جہاں تیار کی جانے والی روٹی کی حیرت انگیز مقدار دیکھ کر مَیں بے حد متاثر ہوا۔ یہ تمام کام رضاکارانہ خدمت کے جذبے کے تحت انجام دیا جا رہا ہے اور اس کے لیے یہ تمام خدّام و رضاکار ہماری دلی تحسین اور تشکر کے مستحق ہیں۔
مَیں اس عظیم الشان اجتماع اور اس کے پیچھے کارفرما جذبہ خدمت سے بھی بہت متاثر ہوں۔ جلسہ سالانہ یقیناً ایمان کو مضبوط کرنے کا موقع ہے، لیکن یہ دوستی، خدمتِ خلق اور امن کے پیغام کا بھی مظہر ہے۔ یہ دنیا بھر سے آنے والے افراد کا ایسا اجتماع ہے، جہاں لوگ ایک مشترکہ عزم کے ساتھ جمع ہوتے ہیں، ایسا عزم جو برادری، ہمدردی اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیتا ہے۔
آج کے اس دَور میں، جب دنیا بہت زیادہ تقسیم، اختلافات اور تنازعات کا شکار ہے، میرے خیال میں جلسہ سالانہ جیسے اجتماعات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
مَیں اس موقع پر جماعت احمدیہ کی عالمی ترقیاتی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پارلیمنٹ میں آنے سے قبل میرا شعبہ بین الاقوامی ترقی تھا، اور مجھے ہیومینٹی فرسٹ کی نمائش دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ دنیا بھر میں آپ جو خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ نہایت متاثر کن اور قابلِ ستائش ہیں۔
یہ خدمات آج کے دَور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہیں۔ جماعت احمدیہ تعلیم، صحت، صاف پانی کی فراہمی اور قدرتی آفات کے دوران امداد جیسے بنیادی انسانی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔یہ انسانیت کی بنیادی ضروریات ہیں، اور آپ جس جذبۂ خدمت، احترام اور خلوص کے ساتھ ان کاموں میں اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں، وہ واقعی قابلِ قدر اور قابلِ تحسین ہے۔
آخر میں مَیں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب(ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز )کی خدمتِ اقدس میں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، جو آپ امن کے پیغام کو دنیا بھر میں فروغ دے رہے ہیں۔
بہت سے مقررین پہلے ہی اس عظیم شعار ’محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں‘ کا ذکر کر چکے ہیں۔ لیکن جس دَور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں، اس میں اس شعار پر مضبوطی سے قائم رہنا آسان نہیں۔آج دنیا میں بے شمار ناانصافیاں، بہت زیادہ تشدد اور نفرتیں موجود ہیں۔ ایسے حالات میں بھی اس بنیادی پیغام ’محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں‘ پر ثابت قدم رہنے کے لیے غیر معمولی حوصلے، عزم اور استقامت کی ضرورت ہے۔ اور مَیں انتہائی احترام کے ساتھ یہ بات ریکارڈ پر رکھنا چاہتا ہوں کہ آپ مشکل وقتوں میں بھی اس پیغام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
٭…Greg Stafford MP (Secretary for the APPG for the Ahmadiyya Muslim Community): ساٹھویں جلسہ سالانہ میں یہاں موجود ہونا میرے لیے حقیقی خوشی کی بات ہے۔
مجھے ٹِلفورڈ کی نمائندگی کرنے کا خاص اعزاز حاصل ہے، جو مسجد مبارک اور اسلام آباد مرکز کا گھر ہے، جہاں حضورِ انور جلوہ افروز ہیں۔ یہ ایسی بات ہے جس پر مجھے بے حد فخر ہے۔
گذشتہ کئی سالوں کے دوران مجھے کئی مرتبہ اسلام آباد آنے کا موقع ملا، اور ہر دَورہ میرے دل پر ایک ہی تاثر چھوڑتا ہے کہ غیر معمولی محبت و گرمجوشی، بہترین انتظام، اور ایک ایسی جماعت جو دوسروں کی خدمت کرنے کی حقیقی خواہش کے ساتھ متحد ہے۔
جماعت احمدیہ مسلمہ سے ملاقات کرنے والے ہر شخص کو یہ بات نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے کہ یہاں اقدار صرف زبان سے بیان نہیں کی جاتیں بلکہ عملی زندگی میں نظر آتی ہیں۔ یہ بات اُن پانچ الفاظ میں سمٹ جاتی ہے کہ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں۔
ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ یہ الفاظ کس طرح عمل میں ڈھلتے ہیں، ہیومینٹی فرسٹ کے کاموں کے ذریعے، عطیات جمع کرنے کی مہمات کے ذریعے، ضرورت مند افراد کی مدد کے ذریعے، بین المذاہب تعلقات کے فروغ کے ذریعے اور دنیا بھر میں رضاکاروں کی جانب سے انجام دی جانے والی بے شمار خاموش خدمات کے ذریعے۔
یہ ایسی جماعت ہے کہ جو صرف خدمت کے بارے میں بات نہیں کرتی بلکہ حقیقتاً خدمت کو اپنا شعار بناتی ہے۔
یہ مثال خاص طور پر اُس وقت بہت اہم ہے کہ جب دنیا میں بہت سے لوگ ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ مسلمہ مسلسل یہ ظاہر کر رہی ہے کہ حقیقی ایمان انسان میں ہمدردی، اچھے ہمسائے کا کردار اور مشترکہ بھلائی کے لیے عزم پیدا کرتا ہے۔
افسوس کے ساتھ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ دنیا کے کئی حصّوں میں احمدی مسلمان آج بھی ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں۔ مرد، خواتین اور بچے صرف اس وجہ سے امتیازی سلوک، تشدد اور خوف کا شکار ہوتے ہیں کہ وہ پُرامن طور پر اپنے ایمان پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔
آل پارٹی پارلیمانی گروپ کے سیکرٹری کی حیثیت سے مَیں ان مسائل کو مسلسل وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ کے وزراء کے سامنے اُٹھاتا رہوں گا، اور احمدی مسلمانوں بلکہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے یا کسی مذہب سے تعلق نہ رکھنے والے افراد کے اس حق کے لیے آواز بلند کرتا رہوں گا کہ وہ آزادی، تحفظ اور خوف کے بغیر اپنے عقائد پر عمل کر سکیں۔
مذہب یا عقیدے کی آزادی کوئی خصوصی رعایت نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔
جو بات مجھے ہمیشہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے طرزِ عمل سے متاثر کرتی ہے، وہ مشکلات کے باوجود آپ کا ردِعمل ہے۔ آپ تلخی کی بجائے وقار کے ساتھ جواب دیتے ہیں، غصے کی بجائے خدمت کے ذریعے جواب دیتے ہیں، اور تقسیم کی بجائے تعلقات اور پل تعمیر کرتے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے۔
آخر پر مَیں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز ) کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کی راہنمائی دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو امن، ہمدردی اور انسانیت کی خدمت کی طرف راہنمائی فراہم کر رہی ہے۔
ہم اس بات پر بھی بے حد خوش قسمت ہیں کہ حضورِ انور کی رہائش گاہ برطانیہ میں ہے۔
٭…His Royal Majesty Alaiyeluwa Oba Kehinde Gbadebo Olugbenle (Olowu of Owu and Paramount Ruler of Egbaland, Ogun State, Nigeria):مَیں نائیجیریا کی جانب سےاللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ سب کو سلام اور محبت کا پیغام پیش کرتا ہوں۔
جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کے اس موقع پرمَیں حضرت خلیفۃالمسیح اور دنیا بھر سے تشریف لانے والے تمام مندوبین کی خدمت میں اپنی دلی، گرمجوش اور خلوص پر مبنی مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔
نائیجیریا کے عوام کی جانب سے مَیں حضورانور کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کی بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، خصوصاً تعلیم کے فروغ کے لیے آپ کی مسلسل حمایت اور کاوشوں پر، جن کے نتیجے میں نائیجیریا میں منارۃ یونیورسٹی اور ایلارُو میں مسرور انٹرنیشنل ٹیکنیکل کالج جیسے ادارے قائم ہوئے۔
یہ ادارے نائیجیریا اور دنیا بھر میں انسانی سرمایہ کی ترقی، اعلیٰ معیار کی تعلیم اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر میں بامعنی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہم حضورانور کے اس شفقت پر بھی تہِ دل سے شکر گزار ہیں کہ جس کے تحت نائیجیریا کا جلسہ سالانہ دوبارہ ایلارُو، اوگن اسٹیٹ، نائیجیریا میں منعقد کرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔ اس فیصلے نے نائیجیریا میں جلسہ سالانہ کی اہمیت اور اثرات کو مزید مضبوط کیاہے۔
نائیجیریا کی جانب سے ہم جماعت احمدیہ اور دنیا بھر کے لوگوں کے درمیان قائم محبت اور تعاون کے تعلق کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کے تمام قائدین اور افراد کو انسانیت کی خدمت، مقامی اور عالمی سطح پر خیر کے کاموں کے لیے ہمیشہ برکت عطا فرمائے۔آپ سب کا بہت شکریہ۔
٭…Prof. Brett Scharffs (Director of the International Center for Law and Religion Studies): بین الاقوامی مرکز برائے قانون و مذہب کے مطالعہ (International Centre for Law and Religious Studies) کا مشن یہ ہے کہ دنیا کے ہر مقام پر تمام لوگوں کے لیے مذہبی آزادی کی نعمت کو محفوظ بنایا جائے اور ہر انسان کے انسانی وقار کا احترام یقینی بنایا جائے۔ ہم گذشتہ بیس سال سے زائد عرصے سے بین الاقوامی انسانی حقوق کی برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کررہے ہیں۔
سر ظفراللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) پاکستان کے پہلے وزیرِ خارجہ تھے، وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور عالمی عدالتِ انصاف کے صدر بھی رہے۔ وہ انسانی حقوق کے عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) کے معماروں میں سے ایک تھے۔
سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) اُس حق کو شامل کروانے کے لیے بھی سب سے زیادہ ذمہ دار شخصیت تھے، جس کے تحت ہر شخص کو اپنا مذہب یا عقیدہ تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے، اور یہ حق انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل ۱۸؍ میں شامل کیا گیا۔
جنرل اسمبلی کے فلور پر ہونے والی ایک اہم بحث میں سعودی عرب کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام میں ارتداد ایک سنگین گناہ ہے، اس لیے آرٹیکل ۱۸؍میں مذہب تبدیل کرنے کے حق کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔
سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) نے اس کے جواب میں دو دلائل پیش کیے۔ پہلا یہ کہ اگر کسی شخص کو مذہب تبدیل کرنے کا حق حاصل نہ ہو تو یہ کہنا منافقت ہو گی کہ اسے مذہب اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسلام میں ارتداد سے بھی زیادہ سنگین گناہ منافقت ہے۔ کسی شخص کو ایسے ایمان کا اظہار کرنے پر مجبور کرنا جس پر وہ یقین نہیں رکھتا، دراصل اسے منافقت پر مجبور کرنا ہے۔
بالآخر سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) کا مؤقف کامیاب ہوا اور ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے انسانی حقوق کے عالمی منشور کو متفقہ طور پر منظور کیا۔ اس میں مسلم اکثریتی ممالک بھی شامل تھے، اگرچہ چند ممالک، جن میں سوویت یونین، جنوبی افریقہ اور سعودی عرب شامل تھے، نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔
یقیناً سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) جماعت احمدیہ مسلمہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ وہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کے عظیم ترین بین الاقوامی سفارت کاروں میں سے ایک تھے، لیکن افسوس کہ ان کی یاد کو محدود کر دیا گیا، بلکہ تقریباً مٹا دیا گیا۔
صرف ایک سال قبل ہی جنوری ۲۰۲۵ءمیں سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) کی یاد کو مٹانے کی اس کوشش کا ایک نیا باب سامنے آیا، جب رات کی تاریکی میں پاکستانی حکّام نے ڈسکہ میں واقع اُس مسجد کو منہدم کر دیا جو سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) نے تعمیر کروائی تھی۔
سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) کی تعمیر کردہ مسجد کا مسمار کیا جانا پاکستان کی ریاست کے لیے شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہے۔ یہ مذہبی امتیاز اور عدم برداشت کی آئینی پالیسیوں کے جاری اثرات کی ایک واضح علامت ہے۔
ایک ایسے عالم کی حیثیت سے جو انسانی وقار، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے لیے کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، مَیں سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) کی یاد کو عزت و احترام کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ مَیں اُن کوششوں کی مذمت کرتا ہوں کہ جن کے ذریعے سر ظفر اللہ خان صاحب (رضی الله عنہ) کی یاد کو اس مسجد کی تباہی کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، اور مَیں جماعت احمدیہ مسلمہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوں۔
٭… Stefanie Jansen (Mayor of Heidelberg, Germany): آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے مدعو کیا اور مجھے اپنے پہلے جلسہ سالانہ میں شرکت اور اس عظیم اجتماع کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع دیا۔اس اجتماع کو دیکھ کر مجھے صرف ہزاروں افراد نظر نہیں آ رہے، بلکہ مجھے ہزاروں ایسے دل نظر آ رہے ہیں جو مشترکہ ایمان، مشترکہ اقدار اور انسانیت کی خدمت کے عزم کے ذریعے ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔
چاہے آپ یہاں اس اجتماع میں موجود ہیں یا دنیا بھر میں براہِ راست نشریات کے ذریعے دیکھ رہے ہیں، اس لمحے کے جذبے سے متاثر ہوئے بغیر رہنا مشکل ہے۔
خصوصاً آج کے اس دَور میں، جب ہم تنازعات، بےیقینی اور بڑھتی ہوئی تقسیم کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، یورپ اور بالخصوص میرے وطن جرمنی میں ہم ایسی قوتوں کا اُبھرنا دیکھ رہے ہیں جو لوگوں کو متحد کرنے کی بجائے تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ایسے اجتماعات ہمیں ایک ایسی حقیقت یاد دلاتے ہیں کہ جسے دنیا اکثر بھول جاتی ہے کہ ہمارے مختلف پس ِ منظر کے باوجود ہم امن، احترام اور اتحاد کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔
آج مَیں یہاں دو حیثیتوں سے موجود ہوں۔ پہلی حیثیت میں مَیں یورپی اتحاد برائے نسل پرستی کے خلاف شہروں (European Coalition of Cities against Racism) کی نمائندگی کر رہی ہوں، جو یورپ کے اُن شہروں کا ایک نیٹ ورک ہے کہ جو ہر انسان کے لیے مساوات، شمولیت اور احترام کے لیے کوشاں ہیں۔دوسری حیثیت میں مَیں جنوبی جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ کی میئر ہوں۔ میری اہم ذمہ داریوں میں سے دو یہ ہیں کہ ہر شخص کے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دیا جائے۔
گذشتہ پچاس سال کے زائد عرصے سے جماعت احمدیہ مسلمہ میرے شہر ہائیڈل برگ میں ان کوششوں کا ایک اہم حصّہ رہی ہے۔
آپ کی جماعت نے ہمیں دکھایا ہے کہ آپ کا شعار محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں حقیقی معنوں میں کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ صرف الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ دوسروں کی بے لوث خدمت کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔
جیسا کہ آپ نے سنا، مجھے اپریل میں حضرت مرزا مسرور احمدصاحب( ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) سے ذاتی ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا، جس کا مجھ پر گہرا اثر ہوا۔سب سے زیادہ جس چیز نے مجھے متاثر کیا، وہ یہ تھی کہ حضورِ انور کا یہ پختہ یقین ہے کہ امن کوئی محض ایک نظریاتی تصور نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے، جو ہم میں سے ہر ایک پر عائد ہوتی ہے۔
میرے نزدیک امن صرف بین الاقوامی مذاکرات یا عالمی کانفرنسوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔
ایک میئر کی حیثیت سے میرا پیغام آپ کے لیے یہ ہے کہ امن کا آغاز بہت قریب سے ہوتا ہے: ہمارے اپنے محلوں اور ہماری اپنی برادریوں سے۔مہربانی کا ہر عمل ایک ایسی جگہ پیدا کرتا ہے کہ جہاں امن مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔یہی وہ کردار ہے جو جماعت احمدیہ مسلمہ میرے شہر میں ادا کر رہی ہے، اور یہی کردار آپ سب دنیا بھر میں اپنی اپنی برادریوں میں ادا کر رہے ہیں۔لہٰذا آپ سب کا بہت شکریہ کہ آپ مضبوط، پُرامن اور زیادہ ہمدرد معاشروں کی تعمیر میں ہمارے ایک قابلِ قدر ساتھی ہیں۔
٭…Archbishop Angaelos OBE (Coptic Orthodox Archbishop of London): شکریہ، بہنو اور بھائیو۔مَیں آپ سب کو ہمارے خداوند کے نام میں سلام پیش کرتا ہوں اور آپ سب کے لیے امن، فضل اور برکتوں کی دعا کرتا ہوں۔
مَیں آپ کے درمیان ایک دوست کی حیثیت سے حاضر ہوا ہوں۔ دس سال سے زائد عرصہ قبل مجھے آپ کی جماعت سے متعارف ہونے کا موقع ملا، اور وہ وقت آپ کی جماعت کو قریب سے سمجھنے اور جاننے کے لیے ایک خوبصورت دریچہ ثابت ہوا۔مجھے ماضی میں جلسہ سالانہ کے لیے ریکارڈ شدہ پیغامات پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے، اور یہ میرے لیے ایک عظیم سعادت اور خوشی کی بات ہے کہ اس سال آپ کے ساٹھویں جلسہ سالانہ کے موقع پر ذاتی طور پر آپ کےساتھ شامل ہو رہا ہوں۔
مَیں ایک ایسی مسیحی کلیسا کی جانب سے حاضر ہوا ہوں کہ جو آپ کے تجربات کو سمجھتی ہے۔ ہماری کلیسا کی تعداد بھی تقریباً جماعت احمدیہ مسلمہ کے برابر ہے، اور ہم نے ماضی میں، اور بعض اوقات آج تک بھی، مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔اس لیے ہم اس درد کو بھی سمجھتے ہیں اور اُس گواہی کو بھی جو ایسے حالات میں ایمان اور ثابت قدمی کے ذریعے سامنے آتی ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ مذہبی آزادی کوئی ایسی نعمت نہیں کہ جو صرف بین الاقوامی معاہدوں یا سمجھوتوں کے ذریعے دی جائے، بلکہ یہ خدا کی طرف سے عطا کردہ ایک بنیادی حق ہے جو ہر انسان کے لیے ہے۔
اگرچہ آپ اور مَیں اس بات میں مختلف ہو سکتے ہیں کہ ہمارا حقیقی ایمان کیا ہے، لیکن ہم اس بنیادی حق کے تحفّظ کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں کہ ہر انسان کو اپنے ایمان کو اختیار کرنے، اس ایمان کے مطابق زندگی گزارنے اور آزادی کے ساتھ اس پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔
٭…Reverend Bernard Longley Archbishop of Birmingham: محترم دوستو! مجھے آج آپ کے درمیان، آپ کے دیگر معزز مہمانوں اور دوستوں کے ساتھ موجود ہونے پر بے حد خوشی اور مسرت ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں روم میں قائم ویٹیکن کے شعبۂ بین المذاہب مکالمہ کی جانب سے آپ تک ایک پیغام پہنچاؤں۔
حضورِ انور حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز) اور جماعت احمدیہ مسلمہ کے محترم بھائیو اور بہنو!مَیں آپ کو اپنی روحانی قربت کا یقین دلاتا ہوں اور آپ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کی خدمت میں اپنی دلی اور برادرانہ مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، بین المذاہب مکالمہ اور ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش، آج کی اس تیزی سے بدلتی ہوئی اور ٹیکنالوجی کے زیرِ اثر دنیا میں کوئی اختیاری عمل نہیں رہا، بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہم ایسا مستقبل تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں حقیقی انسانی زندگی، وقار اور خیر و بھلائی کے ساتھ فروغ پا سکے تو ہمیں باہمی گفتگو اور تعاون کو اختیار کرنا ہو گا۔
کیتھولک کلیسا کی حیثیت سے ہم اُن تمام افراد کو، جو خلوصِ نیت کے ساتھ سچائی، نیکی اور خوبصورتی کی تلاش میں ہیں، اس روحانی سفر کے ساتھی سمجھتے ہیں۔ ہم انہیں ہر انسان کے وقار کے تحفظ اور خدا کی تخلیق کی نگہداشت کے لیے اپنے قیمتی رفقا ء تصور کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہمیں درپیش مشترکہ چیلنجز کا گہرا ادراک ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اس عظیم تخلیق کے، جس کا مالک قادرِ مطلق خدا ہے، نگہبان ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داریاں صرف ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلوؤں تک محدود نہیں۔ ہماری اصل اور سب سے بڑی ذمہ داری حقیقی انسانیت، انسانی وقار اور اُن اقدار کا تحفظ ہے کہ جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ آج ہماری دنیا کو درپیش فیصلہ کن چیلنج صرف سائنسی یا تکنیکی نہیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہے۔
میری دلی دعا اور مخلصانہ خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو، آپ کے خاندانوں کو اور پوری انسانیت کو امن، سلامتی اور برکتوں سے نوازے۔
٭… Abdelhaq Sari MP (Member of Canadian Parliament for Bourassa): السلام علیکم! میرے بھائیو اور بہنو!آج آپ کے سامنے کھڑا ہونا میرے لیے ایک گہرے اعزاز کی بات ہے۔ میں اپنے سامنے ایمان، عقیدت اور بھائی چارے کے ایک سمندر کو دیکھ رہا ہوں۔
ہر سال جماعت احمدیہ مسلمہ ہمیں ایک نہایت سادہ مگر انتہائی اہم حقیقت یاد دلاتی ہے کہ امن کوئی دُور کا خواب نہیں، بلکہ امن ہمارے درمیان ہی تعمیر ہوتا ہے۔ یہ ہر روز ہمارے اعمال، ہماری خدمت اور ہمارے باہمی تعلقات کے ذریعے مضبوط ہوتا ہے۔ آپ کا شعار کہ جسے میں انتہائی احترام کے ساتھ دُہراتا ہوں کہ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں۔
ایسی دنیا میں جہاں اختلافات بہت آسانی سے دراڑیں پیدا کر دیتے ہیں، یہ صرف الفاظ نہیں ہیں۔ یہ ایک عملی حقیقت ہیں۔ یہ سکولوں میں نظر آتے ہیں، خون کے عطیات کی مہمات میں نظر آتے ہیں، ضرورت مندوں کی مدد کے لیے بڑھے ہوئے ہاتھوں اور سب کے لیے کھلے دروازوں میں نظر آتے ہیں۔
جب مَیں آج آپ کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے حلقۂ انتخاب بوراسا (Bourassa)، مونٹریال، کینیڈا کا خیال آتا ہے، جس کی نمائندگی کرنا میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ مَیں کینیڈا کے دارالعوام میں ایک ایسے معاشرے کی نمائندگی کرتا ہوں کہ جہاں تنوّع کوئی بوجھ نہیں بلکہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہے اور اس طاقت کے اہم ستونوں میں سے ایک آپ ہیں۔
ایک رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے، مَیں آپ کے ساتھ کھڑے رہنے کا عہد کرتا ہوں، آپ کے اس حق کے دفاع کے لیے کہ آپ امن و آزادی کے ساتھ عبادت کر سکیں، مکمل عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں، بغیر اس کے کہ کبھی آپ کو اپنی جگہ ثابت کرنے یا اپنے وجود کا جواز پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔
٭…Dr Farid F. Saenong (Lecturer, Indonesian International Islamic University) : السلام علیکم، آپ سب کو خوش آمدید! آج اس عظیم الشّان جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ءء میں، اس خوبصورت مقام پر آپ سب کے درمیان موجود ہونا میرے لیے ایک گہرے اعزاز اور خوشی کی بات ہے۔
مَیں انڈونیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں اور جمہوریہ انڈونیشیا کے وزیرِ مذہبی امور کے خصوصی رابطہ کار مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہا ہوں۔
اسلام صرف ایک نظریہ یا مقصد نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ درحقیقت لفظ الاسلام اسی مادّہ سے نکلا ہے جس سے السّلام کا لفظ بنتا ہے، جس کے معنی امن کے ہیں۔ اسی لیے اسلام اپنے پیروکاروں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے ساتھ، خواہ اُن کا تعلق کسی بھی پس منظر یا عقیدے سے ہو، محبت، انصاف اور رحم دلی کے ساتھ پیش آئیں۔
قرآنِ کریم ہمیں جہاں تک ممکن ہو امن قائم کرنے کی ترغیب دیتا ہے، اور ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ تمام انسان عزت و تکریم کے ساتھ پیدا کیے گئے ہیں۔
حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کی زندگی ہمیں عفو و درگزر، صبر اور رحمت کا عظیم نمونہ پیش کرتی ہے، حتیٰ کہ اُن لوگوں کے ساتھ بھی کہ جو آپؐ کی مخالفت کرتے تھے۔ آپؐ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی طاقت تنازعات کو حکمت، برداشت اور احترام کے ذریعے حل کرنے میں ہے۔
۲۰۲۴ءکے اختتام پر اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد، جمہوریہ انڈونیشیا کے وزیرِ مذہبی امور جناب نصرالدین عمر صاحب نے وزارت کے اہم پروگراموں میں سے ایک کے طور پر محبت کے نصاب کو نمایاں طور پر متعارف کروایا ہے۔بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف سکولوں اور مدارس کے تعلیمی مواد تک محدود ہے، لیکن حقیقت میں اس کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ محبت کا یہ تصور دنیا بھر کے انسانوں کے درمیان امن، احترام اور باہمی محبت کے قیام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
ماضی کے کسی بھی تکلیف دہ تجربے پر میں اپنی گہری ہمدردی اور احساسات کا اظہار کرتا ہوں۔ لیکن ہمیں پختہ یقین رکھنا چاہیے کہ ہمارے لیے ایک بہتر اور روشن مستقبل موجود ہے، ایسا مستقبل جہاں تمام انسان امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں، خصوصاً مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد، جن میں انڈونیشیا اور دنیا بھر کے ہمارے احمدی مسلمان بھائی اور بہنیں بھی شامل ہیں۔
ایک عالمی برادری کے ارکان کی حیثیت سے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں، نفرت کو ردّکریں اور لوگوں کے درمیان محبت اور اتحاد کے پُل تعمیر کریں۔احترام، معافی اور ہمدردی کو اپنی زندگیوں کا حصّہ بنا کر ہم ایک زیادہ پُرامن اور ہم آہنگ دنیا کے قیام میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
٭…٭…٭
اختتامی اجلاس سے قبل
معززین کے پیغامات و خطابات
بروز اتوار، مورخہ ٢۶؍جولائی ٢٠٢۶ء، جلسہ سالانہ برطانیہ کے تیسرے روز اختتامی اجلاس سے قبل مکرم امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کی زیر صدارت ایک مختصر نشست منعقد ہوئی، جس میں جلسہ سالانہ کے اس بابرکت موقع پر مختلف معززین کی جانب سے موصول ہونے والے تہنیتی پیغامات اور تاثرات پیش کیے گئے۔
سب سے پہلے مکرم امیر صاحب نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ یہ ایک خصوصی اجلاس ہے، جس میں دنیا بھر سے تشریف لانے والے معزز مہمانان گرامی جلسہ سالانہ کے حوالے سے اپنے خیالات اور تاثرات پیش فرماتے ہیں۔
اس نشست کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جس کی سعادت مکرم حافظ انیق الرحمٰن صاحب کو حاصل ہوئی۔
اس کے بعد اٹھارہ(۱۸)معززین کے تہنیتی پیغامات پیش کیے گئے۔ ان میں سے گیارہ (۱۱)معززین کے ویڈیو پیغامات جلسہ گاہ میں نصب بڑی سکرین پر حاضرین کو دکھائے اور سنائے گئے۔ جبکہ دیگر سات(۷)معزز مہمانوں کو حاضرین جلسہ سے براہ راست مختصر خطاب کرنے کا بھی موقع ملا۔
جن احباب و خواتین کے ویڈیو پیغامات پیش کیے گئے یا جنہیں براہ راست خطاب کرنے کا موقع میسر آیا، ان کے اسماء بالترتیب درج ذیل ہیں۔
Her Excellency Professor Naana Jane Opoku-Agyemang (Vice-President of Ghana), Dame Siobhain McDonagh MP (Chair of the APPG for the Ahmadiyya Muslim Community, and Member of Parliament for Mitcham and Morden), Victor Andrew Christopher (Chief of Cheam First Nation Council, Canada), His Excellency Joseph Christian Leopold (Speaker of the Rodrigues Islands Regional Assembly), Fleur Anderson MP (Member of the Foreign Affairs Committee, and Member of Parliament for Putney), David Smith MP (UK´s Special Envoy for Freedom of Religion or Belief), David Matas (Canadian Group of Liberal International, Canada), The Rt Revd Gordon Kennedy (Moderator of the General Assembly of the Church of Scotland), Sir Mark Rowley (Metropolitan Police Commissioner), Maria Ulfah Anshor (Former Commissioner of the National Commission on Violence Against Women, Indonesia), Hon. Professor Peter Anyang, Nyong’o (Governor of Kisumu County, Kenya), Rt Hon Lord Alton of Liverpool KCSG KCMCO (Chair of the Joint Committee on Human Rights), Lamin Jabbi Esq. (Minister for Communications and Digital Economy, The Gambia), Aquinas Quansah (Deputy High Commissioner of the Republic of Ghana to the United Kingdom), His Excellency Morie Komba Manyeh (Sierra Leone High Commissioner to the United Kingdom), Rt Rev Bishop Philip Mounstephen (Bishop of Winchester), Rt Hon Wes Streeting MP (Secretary of State Defence), Rt Hon Sir Edward Davey MP (Leader of the Liberal Democrats, and Vice Chair of the APPG for the Ahmadiyya Muslim Community)
امیر صاحب نے ہر معزز مہمان کے پیغام پیش کیے جانے سے قبل ان کا مختصر تعارف کروایا اور جماعت احمدیہ کے ساتھ ان کے خصوصی تعلق کا بھی ذکر کیا۔ ذیل میں ان معززین کے تہنیتی پیغامات اور تاثرات میں سے بعض کا انتخاب اختصار کے ساتھ پیش ہے۔
٭… Her Excellency Professor Naana Jane Opoku-Agyemang (Vice-President of Ghana): حضور انور، احمدیہ مسلم جماعت کے دنیا بھر میں موجود معزز افراد، اور وہ تمام احباب جو ایم ٹی اے انٹرنیشنل اور اس کے دیگر معاون نیٹ ورکس کے ذریعے اس بابرکت اجتماع میں شامل ہو رہے ہیں۔ مَیں آپ سب کی خدمت میں عزت مآب صدر جمہوریہ گھانا، جناب جان درامانی مہاما(His Excellency John Dramani Mahama)، حکومت گھانا اور عوام گھانا کی جانب سے دلی اور پُرخلوص نیک تمناؤں اور مبارکباد کا پیغام پیش کرتی ہوں۔
گھانا میں اپنے تعلیمی سفر اور تحقیقی کام کے دوران مجھے احمدیہ مسلم جماعت کی جانب سے قومی ترقی کے لیے انجام دی جانے والی شاندار خدمات کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں جب مجھے وزیر تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی، تو مَیں نے خود دیکھا کہ جماعت احمدیہ کس طرح پرائمری تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک نئی نسلوں کی علمی و اخلاقی تربیت اور ذہنی نشوونما کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔
آپ کے تعلیمی ادارے، ہسپتال، فلاحی منصوبے اور ہیومینٹی فرسٹ کے تحت کی جانے والی انسانیت کی خدمت نے دنیا بھر میں بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا ہے۔
رواں سال کے آغاز میں مجھے گھانا میں احمدیہ مسلم جماعت کے ۹۳ویں جلسہ سالانہ سے مخاطب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جہاں مجھے لجنہ اماء اللہ کی جانب سے بے مثال محبت، خلوص اور گرمجوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔
آج مَیں خصوصی طور پر لجنہ اماء اللہ کی خدمت میں اپنی گہری قدر دانی اور تحسین کا اظہار کرنا چاہتی ہوں۔
بطور خواتین ہم پر ایک عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم خاندانوں کی مضبوط بنیاد رکھیں، معاشروں کی تربیت و ترقی میں کردار ادا کریں اور اپنی قوموں کی تعمیر میں حصّہ لیں۔
میری دعا ہے کہ یہ جلسہ سالانہ آپ سب کے لیے کامیابی، امن، روحانی ترقی اور برکتوں کا باعث بنے۔ آپ سب کو جلسہ سالانہ مبارک ہو۔
٭… Dame Siobhain McDonagh MP (Chair of the APPG for the Ahmadiyya Muslim Community, and MP for Mitcham and Morden): السلام علیکم!مَیں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب( ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) اور برطانیہ کے ساٹھویں جلسہ سالانہ میں شریک تمام معزز احباب کی خدمت میں دلی سلام اور نیک تمناؤں کا پیغام پیش کرتی ہوں۔
چھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی یہ عظیم الشان اجتماع آج اُن اعلیٰ اقدار کا روشن مینار ہے کہ جن کی آپ نمائندگی کرتے ہیں، یعنی خدمت خلق، محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں۔
تاہم آج مَیں ایک اہم بات کہنا چاہتی ہوں کہ احمدیہ مسلم جماعت کو، بالخصوص پاکستان میں، جن مسلسل مشکلات، پابندیوں اور ظلم و ستم کا سامنا ہے، اُس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رواں سال جون میں مسلح افراد نے ربوہ میں مسجد اقصیٰ کی حفاظت پر مامور احمدی رضاکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین افراد شدید زخمی ہوئے۔ اسی طرح عید کے موقع پر پنجاب بھر میں بعض عبادت گزاروں کو نماز باجماعت ادا کرنے سے روکا گیا، اور کچھ افراد کو صرف اپنے مذہبی فریضے کی ادائیگی کی وجہ سے انتظامیہ کی جانب سے اپنی ہی عبادت گاہوں سے نکال دیا گیا۔
آل پارٹی پارلیمانی گروپ کی چیئر کی حیثیت سےمَیں تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون سے ان ناانصافیوں کو حکومت کے سامنے مضبوط آواز کے ساتھ اُٹھاتی رہی ہوں، تاکہ مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مَیں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ مَیں آئندہ بھی انصاف، مساوات اور مذہبی آزادی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہوں گی۔
٭… Victor Andrew Christopher (Chief of Cheam First Nation Council, Canada): فرسٹ نیشنز کے نمائندوں کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ باعث اعزاز ہے کہ ہم اس اجتماع میں شریک ہوئے اور ہمیں اس میں اپنا حصّہ ڈالنے کا موقع ملا۔
حضور انور! اللہ تعالیٰ آپ کو مزید قوت عطا فرمائےتاکہ آپ گہری اور دائمی محبت کے ساتھ انسانیت کی خدمت سر انجام دیتے رہیں۔
ہم احمدیہ مسلم جماعت کینیڈا کے سامنے احترام کے ساتھ اپنے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اُن عظیم اقدار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جن پر آپ ہر روز عمل پیرا ہوتے ہیں۔ ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ مقامی (Indigenous) اقوام کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے ہماری برادریوں کو ترقی دینے اور انہیں آگے بڑھانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ امن، محبت اور اتحاد کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ہمارے لیے واقعی ایک عظیم نعمت ہے۔
٭… His Excellency Joseph Christian Leopold (Speaker of the Rodrigues Island Regional Assembly): حضور انور، معزز مہمانان گرامی! السلام علیکم!میرے لیے یہ اَمر ایک گہرا اعزاز اور باعث سعادت ہے کہ آج مَیں پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں شرکت کر رہا ہوں، اور مَیں روڈریگز جزیرے کی جانب سے حضور انور حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) کی خدمت میں دلی خیرسگالی کے جذبات پیش کرتا ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ مَیں یہاں پہنچنے کے لیے بہت دُور سے سفر کر کے آیا ہوں۔ ان تین دنوں کے دوران مَیں نے یہاں بھائی چارے، امن، ہمدردی، اتحاد اور باہمی احترام کے جس ماحول کا مشاہدہ کیا، اُس میں مَیں پوری طرح ڈوب گیا ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے مَیں اپنے ہی گھر میں ہوں۔ یہ ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے۔
میرا جزیرہ روڈریگز ۱۰۴؍مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور جس کی آبادی تقریباً ۴۳؍ہزار نفوس پر مشتمل ہے، ایک ایسا خطہ ہے کہ جہاں مختلف ثقافتیں، مذاہب اور روایات طویل عرصے سے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ باہم مل جُل کر رہتی آئی ہیں۔
یہ جزیرہ جماعت احمدیہ مسلمہ بالخصوص ہیومینٹی فرسٹ جرمنی کی بے مثال خدمات سے بہت مستفید ہوا ہے، حقیقت یہ ہے کہ دیگر چھوٹے اور دُور افتادہ جزیروں کی طرح روڈریگز کو بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں نومبر ۲۰۲۵ء سے پانی کی شدید قلّت بھی شامل ہے۔ اس صورت حال کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر ہیومینٹی فرسٹ نے متعدد خاندانوں کو پانی ذخیرہ کرنے کے لیے واٹر ٹینک عطیہ کیے ہیں۔ مزید برآں ہیومینٹی فرسٹ جرمنی نے صحت کے شعبے میں بھی تعاون کیا اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم جزیرے میں بھیجی تاکہ طبّی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
اسی طرح احمدیہ مسلم جماعت کی جانب سے منظّم کیے جانے والے قیادتی اور تعلیمی پروگرام مقامی معاشرے میں سماجی بُرائیوں کے خلاف جدوجہد میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ہیومینٹی فرسٹ کھیلوں کی ٹیموں کی مالی معاونت بھی کرتی ہے، اور سلائی، کھانا پکانے اور بڑھئی کے کام کی تربیت بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ اُن متعدد اقدامات میں سے چند ہیں کہ جن کا مقصد جزیرے پر ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
مقامی برادریوں اور سرکاری حکّام کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے احمدیہ مسلم جماعت اور ہیومینٹی فرسٹ کی خدمات کو جزیرے کے ہر فرد کی جانب سے بے حد سراہا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
درحقیقت محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں کا شعار روڈریگز میں محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ یہ حقیقتاً اپنی روح اور معنی کے ساتھ زندہ نظر آتا ہے۔
Fleur Anderson MP (Member of the Foreign Affairs Committee, and MP for Putney):السلام علیکم! جلسہ مبارک!امسال جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ سب کو اپنی نیک تمنائیں پیش کرنا میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔ گذشتہ سال مَیں ذاتی طور پر آپ کے ساتھ موجود تھی، اور حال ہی میں مجھے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے امن سمپوزیم میں شرکت کا موقع بھی ملا، جو میرے لیے بہت بامعنی اور نہایت مؤثر تجربہ تھا۔
مجھے احمدیہ مسلم جماعت کی تمام تقریبات میں شرکت کرنا بہت پسند ہے۔ اور یہ سال ایک بہت ہی خاص سال ہے، کیونکہ اس سال لندن مسجد کی سوویں سالگرہ ہے، جو میرے حلقۂ انتخاب میں واقع ہے۔ اس پر مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہےاور مَیں جانتی ہوں کہ تمام جماعت بھی اس پر فخر کرتی ہے۔ اور اُن ہندوستانی خواتین کی داستان، جنہوں نے ایک ایسی مسجد کی تعمیر کے لیے اپنا سونا عطیّہ کر دیا، جو اُن سے بہت دُور تعمیر ہونی تھی، اور وہ جانتی تھیں کہ وہ اسے کبھی اپنی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھ سکیں گی، ہمارے اس دَور کے لیے ایک نہایت طاقتور مثال ہے۔
اور اس وقت، جیسا کہ حضور انور نے بارہا فرمایا ہےاور جیسا کہ امن سمپوزیم میں بھی ارشاد فرمایا، دنیا ایک نہایت نازک اور خطرناک دَور سے گزر رہی ہے۔
ایسے حالات میں ہمیں اس پیغام امن کی اشد ضرورت ہے کہ جو جماعت احمدیہ مسلمہ دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے، ایسا امن کہ جو ایک غیر فعّال(passive) امن سے کہیں آگے بڑھ کر ایک فعّال (active) امن ہے، اور یہی وہ چیز ہے کہ جس پر آپ ہر روز عمل کرتے ہیں۔ آپ اپنے معاشرے، اپنے دوستوں، اپنے پڑوسیوں، اپنے کام کی جگہوں اور اپنے تعلیمی اداروں میں جا کر اپنے ایمان اور امن کے اس پیغام کو اپنے کردار اور عمل کے ذریعے زندہ کرتے ہیں۔
٭… David Smith MP (UK´s Special Envoy for Freedom of Religion or Belief): حضور انور، برطانیہ میں احمدیہ مسلم جماعت کے معزز اراکین اور جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ءمیں شریک تمام احباب! السلام علیکم!مَیں آپ سب کی خدمت میں دلی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔
میرے لیے یہ حقیقی اعزاز کی بات ہے کہ مَیں امسال جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی نیک خواہشات آپ تک پہنچا رہا ہوں، خصوصاً اس نہایت اہم موقع پر کہ جب آپ کوبرطانیہ میں اپناساٹھواں جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔
گذشتہ چھ دہائیوں سے یہ اجتماع ایمان، خدمت اور اجتماعی یکجہتی کے جذبے کے تحت لوگوں کو ایک جگہ جمع کرتا چلا آ رہا ہے۔
برطانیہ کی حکومت مکالمے، رواداری اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے احمدیہ مسلم جماعت کی طویل عرصے سے جاری خدمات اور عزم کو تسلیم کرتی ہے اور اس کی قدر کرتی ہے۔ یہ وہ اقدار ہیں کہ جو پُرامن اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے معاشروں کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
ہم احمدیہ مسلم جماعت کے ان افراد کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں کہ جو آج بھی دنیا کے مختلف حصّوں میں دشمنی، امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ان کے اپنے مذہب پر عمل کرنے اور آزادی کے ساتھ عبادت کرنے کے حق پر عائد پابندیاں بھی شامل ہیں۔ جہاں کہیں بھی ہم انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزیاں دیکھتے ہیں، خصوصاً وہ خلاف ورزیاں کہ جن کا سامنا احمدیہ مسلم جماعت کو کرنا پڑتا ہے، وہاں برطانیہ کی حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ضروری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
مَیں گذشتہ کئی برسوں سے جاری خدمت انسانیت، فلاحی سرگرمیوں، بین المذاہب مکالمے اور امن کے فروغ کے لیے آپ کی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
٭… David Matas (Canadian Group of Liberal International, Canada): السلام علیکم!تعارف کروانے پر بہت شکریہ، مجھے کینیڈا میں احمدیہ مسلم لائرز ایسوسی ایشن کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے، یہ میرا پہلا جلسہ سالانہ ہے اور مجھے یہاں موجود ہونے کا موقع ملنے پر بے حد خوشی اور مسرت ہے۔
مَیں امن، مذہبی آزادی اور انصاف کے حق میں حضور انور کے ارشادات کو قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
مَیں اس بابرکت اور ایمان افروز اجتماع کے انعقاد پر یہاں موجود تمام احباب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آپ سب کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
٭… The Rt Revd Gordon Kennedy (Moderator of the General Assembly of the Church of Scotland): امسال جلسہ سالانہ میں شرکت کی دعوت پر آپ کا بہت شکریہ۔ مجھے افسوس ہے کہ مَیں اس موقع پر آپ کے ساتھ شامل نہیں ہو سکا۔ مَیں چرچ آف سکاٹ لینڈ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے امسال جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے تمام احباب کی خدمت میں سلام اور نیک تمناؤں کا پیغام پیش کرتا ہوں۔
ہم شہزادۂ امن خداوند یسوع مسیح کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے اپنے معاشروں میں امن کے قیام اور ہر قسم کی ٹوٹ پھوٹ اور محرومی کے ازالے کے لیے دعا اور کوشش کرتے ہیں۔
ہماری دعا ہے کہ آپ کا یہ اجتماع آپ کےاتحاد، باہمی افہام و تفہیم اور باہمی احترام کے فروغ کے مقاصد کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے۔
) Sir Mark Rowley (Metropolitan Police Commissioner: مجھے کئی مرتبہ افراد جماعت سے ملاقات کرنے کا موقع ملا ہے اور سب سے بڑھ کر مجھے حضور انور سے ملاقات کی سعادت بھی نصیب ہوئی ہے۔
مَیں جانتا ہوں کہ دیانت داری، حوصلہ، جوابدہی، احترام اور ہمدردی جیسی اقدار کا عظیم ابراہیمی مذہب اور دیگر مذاہب کی تعلیمات سے بھی گہرا تعلق ہے، یہی اقدارہماری لندن میں پولیسنگ کے طریق کار میں بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
ہمارے لیے کمیونٹی کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے، خصوصاً ایسے مشکل حالات میں کہ جب مختلف سمتوں سے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور حالیہ واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ ان میں سے بعض خطرات نے آپ کی جماعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسی لیے ہم اس عزم میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں کہ نفرت پر مبنی جرائم کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کریں گے اور تمام کمیونٹیز کو ہر قسم کے خطرات بشمول دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ آپ کی مسلسل حمایت اور تعاون پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اور آپ کے اس خصوصی دن کے موقع پر اپنی دلی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔
٭… Maria Ulfah Anshor (Former Commissioner of National Commission on Violence Against Women, Indonesia): السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاتہ! مَیں انڈونیشیا کے عوام کی جانب سے امن اور یکجہتی کے پُرخلوص جذبات اس عظیم الشان اور بابرکت اجتماع، جلسہ سالانہ برطانیہ، کے تمام شرکاء کی خدمت میں پیش کرتی ہوں۔
آج مَیں اُن تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ جو انڈونیشیا میں جماعت احمدیہ کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں تاکہ ہر قسم کے تشدد اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جا سکے اور جو انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق انڈونیشیا میں جماعت احمدیہ کو مذہبی آزادی پر عائد پابندیوں، عبادت گاہوں پر حملوں، جبری بندشوں، دھمکیوں، جبری بے دخلی اور سماجی اخراج جیسے مسائل کا مسلسل سامنا رہا ہے۔
بحیثیت انسانی حقوق کی تنظیم، ہمارا پختہ یقین ہے کہ کسی بھی تہذیب کا حقیقی معیار اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کے ساتھ کس طرح پیش آتی ہے اور کس طرح ان کے بنیادی حقوق، بشمول ضمیر اور مذہب کی آزادی، کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود کہ جن کا احمدیہ مسلم جماعت کو مسلسل سامنا ہے، جماعت امن، انسانیت کی خدمت، فلاحی کاموں اور پُرامن جدوجہد کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کے ذریعے ہمیں متاثر کرتی ہے۔
آپ کا دائمی پیغام محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں انڈونیشیا اور پوری دنیا کے لیے ایک اخلاقی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
مَیں نے ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے کہ احمدیہ مسلم جماعت تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور معاشرے میں خواتین کی فعّال شرکت کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانا اُس وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب انہیں سیکھنے، قیادت کرنے اور آنے والی نسلوں کی تربیت کرنے کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، اور یہ سب ایک ایسے ماحول میں ہو جو کہ خوف، امتیازی سلوک اور تشدد سے پاک ہو۔
آخر میں مَیں احمدیہ مسلم جماعت کے لیے اپنی گہری قدر دانی اور تشکر کے جذبات پیش کرنا چاہتی ہوں۔ بہت شکریہ۔
٭… Hon. Professor Peter Anyang’ Nyong’o (Governor of Kisumu County, Kenya): ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جسے کینیا، بالخصوص کسومو میں احمدیہ مسلم جماعت کے افراد کو جاننے اور اُن کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے، مَیں امسال جلسہ میں شامل تمام شرکاء کی خدمت میں دلی نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ بطور گورنر کسومو مَیں احمدیہ مسلم جماعت کے انسانی خدمت کے منصوبوں، تعلیم کے فروغ اور عالمی امن کے قیام کے لیے غیر متزلزل عزم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
٭… Rt Hon Lord Alton of Liverpool KCSG KCMCO (Chair of the Joint Committee on Human Rights): یہ میرے لیے باعث مسرت اور اعزاز ہے کہ مجھے یہاں اس شاندار اجتماع میں جمع ہونے والی برطانیہ کی احمدیہ مسلم جماعت کو اپنی نیک تمناؤں کا پیغام پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔
محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں، اس جذبے کی بہترین عکاسی کرتا ہے کہ جس کی آپ نمائندگی کرتے ہیں، تاہم اس کے باوجود دنیا کے بہت سے حصّوں میں احمدیوں کے ساتھ نہایت افسوس ناک اور قابل مذمت سلوک کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل ۱۸؍میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو اختیار کرے، عقیدہ نہ رکھے، یا اپنے عقیدے کو تبدیل کرے۔ لیکن احمدیوں کے معاملے میں اس حق کی مسلسل خلاف ورزی کی جاتی ہے اور ہر روز یہ حقیقت سامنے آتی ہے۔
ہمیں مذہبی آزادی کو تمام لوگوں، بشمول ہماری قابل احترام احمدیہ مسلم جماعت، کے لیے ایک عملی حقیقت بنانا ہوگا۔
٭… Lamin Jabbi Esq. (Minister for Communications and Digital Economy, The Gambia): بسم الله الرحمٰن الرحیم! حضور انور، معزز بزرگو، پیارے بھائیو اور بہنو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!یہ میرے لیے نہایت عظیم اعزاز کی بات ہے کہ مجھے اس تاریخی اجتماع کے سامنے کھڑے ہونے کا موقع ملا ہے۔ مَیں آپ سب کی خدمت میں جمہوریہ گیمبیا کی حکومت اور ثابت قدم عوام کی جانب سے انتہائی گرمجوشی اور برادرانہ جذبات پر مشتمل سلام پیش کرتا ہوں۔
اس موقع پر مجھے یہ خاص اعزاز بھی حاصل ہے کہ مَیں جمہوریہ گیمبیا کے عزت مآب صدر مملکت جناب آدما بارو (His Excellency Adama Barrow)کی جانب سے خصوصی سلام کا پیغام بھی آپ تک پہنچاؤں۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ احمدیہ مسلم جماعت قومی ترقی کا ایک نہایت قیمتی ستون ہے اور ریاست کی تعمیر و ترقی میں ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔
یہ دیرپا شراکت داری ہمارے نہایت قابل، صاحب بصیرت اور حوصلہ افزا امیر محترم بابا ایف ٹراولی صاحب (Baba F. Trawally) کی عظیم قیادت کے زیر سایہ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ اُن کی انتھک محنت نے جماعت کی کوششوں کو ہماری ریاستی تعمیر کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے اور انہیں حقیقی قومی ترقی کی صورت میں نمایاں کیا ہے۔
کئی دہائیوں سے احمدیہ مسلم جماعت ہمارے ملک کی ترقی میں ایک فعّال اور ناگزیر کردار ادا کرنے والی معمار رہی ہے۔ گیمبیا میں ہمارے معاشرتی ڈھانچے پر آپ کے گہرے اثرات روزمرہ کی حقیقت ہیں۔
تعلیم کے میدان میں آپ نے روبو (robbo) سکولز کے ذریعے علم کی شمعیں روشن کی ہیں اور موبائل کلینکس کے ذریعے زندگی بچانے والی طبی سہولیات اور وقار کو ضرورت مند افراد کی دہلیز تک پہنچایا ہے۔ پائیدار بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے ہیومینٹی فرسٹ اور انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز کی مثالی کوششوں کے ذریعے آپ ہمارے دیہی علاقوں کے منظرنامے کو عملی طور پر تبدیل کر رہے ہیں۔
آپ کے ماہر انجینئرز اور آرکیٹیکٹس نے مثالی دیہات کو قابل اعتماد شمسی توانائی کے نظام اور صاف، زندگی بخش پانی کی سہولیات سے آراستہ کیا ہے۔
آپ کے فوڈ باسکٹ منصوبے اور زرعی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے ہم مکمل غذائی خود کفالت کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ آپ کا ٹیکنیکل کالج ہماری نوجوان نسل کو وہ فنی مہارتیں فراہم کر رہا ہے کہ جن کے ذریعے وہ اپنے ہاتھوں سے ہماری قوم کی تعمیر کر سکیں گے۔
آفات اور ہنگامی حالات میں بھی آپ ہمیشہ اوّلین صفوں میں موجود رہے ہیں، اور بلا کسی تفریق کے ہر ایک کی مدد کے لیے فوری طور پر میدان عمل میں آتے ہیں۔
مزید برآں بحیثیت وزیر مواصلات اور ڈیجیٹل معیشت مَیں اس بات کو بھی نمایاں کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے مسلم ٹیلی وژن احمدیہ (MTA) کے ذریعے ہمارے میڈیا کے منظرنامے میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔
یہ ٹیلی وژن چینل محض ایک نشریاتی پلیٹ فارم نہیں، بلکہ پورے مغربی افریقہ میں سماجی اور معاشی ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
مقامی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور براڈکاسٹ انجینئرنگ کی تربیت دے کر یہ ادارہ انسانی سرمایہ کی ترقی کے لیے ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے، مقامی معیشتوں کو فروغ دیتا ہے اور لوگوں کو عالمی سطح پر اپنی آواز پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ڈیجیٹل شمولیت کے اپنے عزم کے ذریعے یہ ٹیلی وژن چینل دیہی اور شہری آبادیوں کے درمیان فاصلے کو کم کر رہا ہے اور علم کی روشنی اور اسلام کے حقیقی پُرامن پیغام کو ہر گھر تک پہنچا رہا ہے۔
یہاں موجود ہزاروں افراد اور دنیا بھر میں دیکھنے والے لاکھوں ناظرین کے لیے میرا پیغام ہے کہ آپ کی قربانیاں صرف گیمبیا ہی نہیں بلکہ تقریباً نصف ارب آبادی رکھنے والے پورے مغربی افریقہ میں زندگیوں کو بدل رہی ہیں۔
آپ بھوکوں کو کھانا فراہم کر رہے ہیں، نوجوانوں کو تعلیم دے رہے ہیں اور بے آواز لوگوں کو آواز عطا کر رہے ہیں۔
مزید برآں جیسا کہ گیمبیا اس سال دسمبر ۲۰۲۶ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے ایک اہم مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہے، اس نازک وقت میں ہم نہایت عاجزی کے ساتھ حضور انور اور پوری جماعت سے خصوصی دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں، ہم آپ کی پُرخلوص دعاؤں کے طلب گار ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی کامل مدد اور نصرت کے ذریعے امن، اتحاد اور ہم آہنگی ہماری قوم کی حفاظت کرتی رہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت خلیفۃ المسیح(ایّدہ الله تعالیٰ بنصرہ العزیز) کو ہمیشہ سلامت رکھے اور احمدیہ جماعت اور گیمبیا کے درمیان محبت اور تعاون کے تعلقات کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ بہت شکریہ۔
٭… Aquinas Quansah (Deputy High Commissioner of the Republic of Ghana to the United Kingdom): مَیں آج یہاں شامل ہو کر بہت خوش ہوں۔ مَیں اپنے آپ کو اس جماعت کا ایک حصّہ سمجھتا ہوں، مَیں رکن پارلیمنٹ رہ چکا ہوں اور یہ بتاتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میرا تعلق گھانا کے اُس پہلے شہر سے ہے کہ جہاں احمدیہ مشن قائم ہوا۔
آج مَیں آپ سب کے ساتھ شامل ہو کر بہت فخر اور خوشی محسوس کر رہا ہوں۔
جب مَیں یہاں آیا، تو مَیں اپنے گھر کے لیے تین چیزیں ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔ روحانی طور پر میرا دل سیر ہو گیا ہے، جسمانی طور پر مَیں نے کھانا کھایا ہےاور جب مَیں واپس جا رہا ہوں، تو آپ نے مجھے کچھ کھانا ساتھ بھی دیا ہے تاکہ مَیں اسے گھر لے جا سکوں۔یہی تو محبت کی حقیقت ہے۔
اور میرا یقین ہے کہ اگر دنیا آپ کے اس پیغام کو کہ جس پر ہم آج عمل کر رہے ہیں، یعنی محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں کو اپنا نصب العین بنا لے، تو میرا ایمان ہے کہ دنیا میں نہ مزید جنگیں رہیں گی اور نہ ہی نفرت باقی رہے گی۔
مَیں آپ سب کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں اور آپ کے لیے بہترین خواہشات رکھتا ہوں۔
٭… His Excellency Morie Komba Manyeh (Sierra Leone High Commissioner to the United Kingdom): السلام علیکم! آج یہاں موجود ہونا میرے لیے باعث اعزاز ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر میرے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ مجھے یہ پیغام پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
مَیں ایک ایسے ملک یعنی سیرا لیون سے تعلق رکھتا ہوں کہ جس نے جنگ کا سامنا کیا ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ امن کی کیا اہمیت اور قدر ہے۔ اسی لیے جب آپ کہتے ہیں کہ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں، تو ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔
مَیں یہ ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے ابھی حال ہی میں ایکوواس (ECOWAS) سربراہی اجلاس کی میزبانی کی، جہاں پورے اجلاس کی کارروائیوں میں امن ایک نمایاں موضوع رہا۔
مَیں یہ بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے موجودہ سربراہ مملکت عزت مآب جناب صدر جولیس ماآڈا بایو (His Excellency President Julius Maada Bio) نے ہمیشہ امن کو اپنی حکمرانی کے اہم اصولوں میں شامل رکھا ہے۔ جب وہ ایک نوجوان فوجی افسر تھے تو انہوں نے اقتدار ایک سویلین حکومت کے حوالے کیا، اور اُس وقت سے امن اُن کے طرز حکمرانی کا ایک نمایاں حصّہ رہا ہے۔
لہٰذا میں آپ سے کہتا ہوں کہ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں کا پیغام اُس دنیا کے لیے، جو اس وقت مشکلات سے دوچار ہے، نہایت اہم ہے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا امن کا پیغام پوری دنیا میں گونجتا رہے۔
٭… (Rt Rev Bishop Philip Mounstephen (Bishop of Winchester: احمدیہ مسلم جماعت کے پیارے دوستو!مجھے جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر آپ کی خدمت میں حمایت اور یکجہتی کا پیغام بھجوانے پر بہت خوشی ہے، چند سال قبل آپ کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی میری بہت سی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں اور مجھے افسوس ہے کہ آج مَیں آپ کے ساتھ موجود نہیں۔ مَیں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ دنیا بھر میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کے مقصد کے لیے میری فکر اور عزم بدستور قائم ہے۔
مَیں بخوبی آگاہ ہوں کہ دنیا کے مختلف حصّوں میں آپ کی جماعت کو مسلسل مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ انتہائی ناانصافی ہے۔
مَیں مضبوطی سے آپ کے اس حق کے لیے کھڑا ہوں کہ آپ اپنے مذہب پر اُس طریقے سے عمل کر سکیں کہ جسے آپ درست سمجھتے اور جس پر آپ کا ایمان ہے۔
براہ کرم یہ جان لیں کہ مَیں آپ کا حامی ہوں اور آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوں۔
٭… ( Rt Hon Wes Streeting MP (Secretary of State Defence: مَیں اِلفرڈ نارتھ (Ilford North) سے رکن پارلیمنٹ ہوں اور مَیں آپ سب کے لیے اس جلسہ کی انتہائی کامیابی کے لیے دلی نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ مَیں آج آپ کے ساتھ موجود نہیں، لیکن یہاں ریڈبرج (Redbridge) میں ایک مقامی رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے مَیں نے بذات خود احمدیہ مسلم جماعت کی جانب سے پیش کی جانے والی عظیم خدمات کا مشاہدہ کیا ہے۔
آپ کی سخاوت، آپ کا بے لوث جذبۂ خدمت اور دوسروں کی مدد کے لیے آپ کی کوششیں آپ کے ایمان کی بہترین تعلیمات اور روایات کی عکاسی کرتی ہیں۔
مَیں اُمید کرتا ہوں کہ آپ اس جلسہ سے بھرپور لُطف اندوز ہوں گے اور یہ آپ کے لیے ایک فائدہ مند اور روحانی طور پر تقویت بخش تجربہ ثابت ہوگا۔
٭… Rt Hon Sir Edward Davey MP (Leader of the Liberal Democrats, and Vice Chair of the APPG for the Ahmadiyya Muslim Community) :السلام علیکم!مجھے برطانیہ اور دنیا بھر میں موجود احمدیہ مسلم جماعت کے اپنے تمام پیارے دوستوں کو جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی دلی اور پُرخلوص نیک تمنائیں پیش کرتے ہوئے بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
بطور قائد لبرل ڈیموکریٹس یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مَیں اپنی اور اپنی پارٹی کی جانب سے احمدیہ مسلم جماعت کے تمام افراد کو اس نہایت خصوصی موقع پر گرمجوشی سے سلام اور نیک خواہشات پیش کروں۔
ایک صدی سے زائد عرصہ قبل چند افراد کی معمولی سی تعداد سے شروع ہونے والے اس اجتماع کو آج ہزاروں افراد کو دنیا بھر سے جمع کرنے والی عظیم الشان تقریب کی صورت میں دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہے۔ لیکن اس اجتماع کی اصل طاقت محض اس کے حجم میں نہیں، بلکہ اُس پیغام میں ہے کہ جو اس کا مرکز ہے۔
بحیثیت رکن پارلیمنٹ مجھے مختلف معاشروں میں آپ کے ایمان کے مثبت اثرات کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے، خواہ وہ انتھک فلاحی خدمات ہوں، نوجوانوں کی صفائی مہمات، خون کے عطیات کی مہمات، یا بحران کے وقت ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے آپ کا عزم ہو۔ آپ کی جماعت ہمیشہ عوامی خدمت کے میدان میں صف اوّل میں موجود رہتی ہے۔ ہماری وسیع تر سوسائٹی کی فلاح و بہبود کے لیے آپ کی یہ لگن اور خدمت کا جذبہ حقیقتاً قابل تحسین اور باعث تحریک ہے۔
بعد ازاں امیر صاحب کی ہدایت پر حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تشریف آوری سے قبل مکرم فرید احمد صاحب نیشنل سیکرٹری اُمور خارجہ نے جن ۸؍معززین کرام کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری پیغامات پڑھ کر سنائے، ان کے نام بالترتیب درج ذیل ہیں۔
Sir Keir Starmer MP (Former Prime Minister of the United Kingdom), Rt Hon John Swinney MSP (Member of the Scottish Parliament and First Minister of Scotland), Harpreet Uppal MP (Member of Parliament for Huddersfield), Cllr Zakir Choudhry (Lord Mayor of Birmingham), Rt Hon Jeremy Hunt MP (Former Foreign Secretary of the United Kingdom), Richard Baker MP (Member of Parliament for Glenrothes and Mid Fife), Luke Taylor MP (Member of Parliament for Sutton and Cheam and Treasurer of the APPG for the Ahmadiyya Muslim Community), Congresswoman Iliana Guadalupe Calles Domínguez (Vice President of the Central American Parliament in Guatemala)
سب سے پہلے سابق وزیر اعظم برطانیہSir Keir Starmer MPکی جانب سے بحیثیت وزیر اعظم برطانیہ ارسال کردہ پیغام پڑھ کر سنایا گیا:مجھے خوشی ہے کہ مَیں جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء میں شامل ہونے والے تمام احباب کو اپنی دلی مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کر رہا ہوں۔
مَیں جانتا ہوں کہ یہ ایک تاریخی اجتماع ہے، کیونکہ یہ برطانیہ کا ساٹھواں جلسہ سالانہ ہے، جو ملک بھر اور دنیا کے مختلف حصّوں سے آنے والے شرکاء کو اتحاد، اخوّت اور امن کے جذبے کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔
مَیں جماعت احمدیہ مسلمہ کو برطانیہ میں ۱۹۱۳ء سے اس کی طویل عرصے پر محیط موجودگی اور خدمت، ہمدردی اور امن کے فروغ کے لیے اس کے مسلسل عزم پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
مَیں حضرت مرزا مسرور احمد صاحب (ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) کی موجودگی اور قیادت کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، جن کی راہنمائی جماعت کے اندر اور اس سے باہر بہت سے لوگوں کے لیے مسلسل باعث تحریک اور مشعل راہ ہے۔
مَیں منتظمین، رضاکاروں اور ان تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جو اس اجتماع کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
مَیں جلسہ سالانہ کی کامیابی اور اسے ایک یادگار اجتماع بنانے کے لیے اپنی دلی نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔
٭… آخر میں Congresswoman Iliana Guadalupe Calles Domínguez (Vice President of the Central American Parliament in Guatemala) کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا:مجھے گذشتہ برسوں میں اس کنونشن میں شرکت کا موقع ملا، اور مَیں ذاتی طور پر اس غیر معمولی روحانی کیفیت، احترام اور اس ایمان کے شعور کی گواہی دے سکتی ہوں کہ جو پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور جس کا اثر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ جذبہ بنی نوع انسان سے محبت، باطنی امن کی جستجو، غور و فکر اور دوسروں کے احترام کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔
مَیں ہر ایک کو جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں مزید جاننے کی ترغیب دیتی ہوں، کیونکہ یہ محض ایک مذہب نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔
مزید برآں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی موجودگی میں مکرم امیر صاحب یوکے نے عزت مآب شاہ چارلس سوم کی طرف سے ارسال کردہ تہنیتی پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔
(قمر احمد ظفر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: الفضل ڈائجسٹ



