جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے تینوں دنوں کی مختصر روداد
(از جلسہ گاہ حديقة المہدي،۲۴؍جولائی ۲۰۲۶ء، نمائندہ الفضل انٹرنيشنل) جلسہ سالانہ کے پہلے دن کا آغاز صبح سوا تين بجے نماز تہجد سے ہوا جو مکرم حافظ طیب احمد صاحب استاد جامعہ احمدیہ یوکے نے پڑھائي۔ صبح چار بج کر ۲۲ منٹ پر حضورِ انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے جلسہ گاہ ميں رونق افروز ہوکر نمازِ فجر پڑھائي۔ حضورِ انور نے نمازِ فجر کي پہلي رکعت ميں سورت بني اسرائيل کي آيات ۷۹تا ۸۵کي تلاوت فرمائي جبکہ دوسري رکعت ميں سورة الکھف کي ابتدائي گيارہ آيات کي تلاوت فرمائي۔ نماز فجر کے بعد مکرم میر انجم پرویز صاحب مربي سلسلہ عربی ڈیسک يوکے نے قولِ سدید کے موضوع پر درس قرآن ديا۔
نماز فجر کے بعد مہمانانِ کرام کو گرم چائے کے ساتھ اُبلے انڈے بھی پیش کیے گئے۔ جبکہ باقاعدہ ناشتے کا انتظام صبح آٹھ بجے کيا گيا تھا۔ ناشتے ميں مہمانانِ کرام اور ڈيوٹي دہندگان کو مزيدارچنے، روٹي، سيريل، مکھن، جام اور ڈبل روٹي پيش کي گئي۔ نیز ٹي سٹال پر چائے کا انتظام تھا جس میں چيني اور بغير چيني ہر دو طرح کی چائے مہيا کي گئي تھي۔
گذشتہ ایک ماہ سے برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے گرمی کی لہر میں آج کچھ کمی رہی۔ دھوپ کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً بادلوں نے سایہ کیے رکھا اور ہلکی ٹھنڈی ہوا بھی چلتی رہی۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان بڑی تعداد میں روحانی مائدہ سے فیض یاب ہونے اور اپنے پیارے امام کے دیدار کے لیے جلسہ گاہ پہنچتے رہے۔ احباب اپنی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعہ حدیقۃ المہدی پہنچتے رہے۔ ٹرين کے ذريعہ تشريف لانے والے احباب کو Altonاور حديقة المہدي کے درميان جاري کردہ ايک شٹل سروس کے ذريعے جلسہ گاہ پہنچایا جاتا رہا نیز بیت الفتوح سے بھی خصوصی شٹل سروس کا انتظام تھا جو مہمانان کو جلسہ گاہ لے کر آتی رہی۔مسیح وقت کے غلاموں کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا۔ گویا
اَج ویکھو چھایا نُور اے
اَج ہر بندہ مسرور اے
حضور انور نے خطبہ جمعہ جلسہ گاہ سے ارشاد فرمايا جس ميں حضورِ انور نےسیرت حضرت مسیح موعودؑ کی روشنی میں کارکنان اور مہمانوں کو زرّيں نصائح فرمائيں۔ حضور انور نے سنت نبویﷺ کی اتباع میں نماز جمعہ کي پہلي رکعت ميں سورة الاعليٰ جبکہ دوسري رکعت ميں سورة الغاشيہ کي تلاوت فرمائي۔ حضورِ انور نے نمازِ جمعہ کے ساتھ نمازِعصر بھي جمع کر کے پڑھائي۔نمازِ جمعہ كے آغاز سے قبل ہی مین ماركی اور اضافی ماركی بھی بھر چكی تھی اور ایك بڑی تعداد نے باہر كھلے آسمان تلے حضور انور كا خطبہ جمعہ سنا اور نمازیں ادا كی۔
نمازوں کے بعد کھانے کي مارکي ميں طعام کا انتظام تھا، کھانے ميں دال، روٹي اور چاول پيش کيے گئے۔پرہيزي کھانے ميں مہمانوں کے ليے pastaکا بھي انتظام تھا۔ جلسہ گاہ میں چائے کے لیے الگ حصہ مختص تھا۔ سارا دن احباب كی کثیر تعداد نے چائے كے سٹال كا رُخ كیا جہاں چائے سے لطف اندوز ہونے كے ساتھ ساتھ میل ملاقات اور باہمی گفتگو بھی ہوتی رہی۔
۶۰ویں جلسہ سالانہ یوکے کا باقاعدہ آغاز تقريب پرچم کشائي اور اس کے بعد افتتاحي اجلاس سےہوا۔ عاشقانِ خلافت اپنے آقا کي ايک جھلک ديکھنے کے ليے بےتاب تھے۔ حضورِانور ۴بج کر ۳۱ منٹ پر لوائے احمدیت لہرانے کے لیے تشریف لائے اورنعرہ ہائے تکبیر کےفلک شگاف نعروں کی گونج میں لوائے احمدیت کو بلند کیا۔ جلسہ گاہ کی نظامت سے موصولہ رپورٹ کے مطابق لوائے احمدیت كی تقریب تك ۹۷؍ممالك كے احباب جلسہ میں شامل تھے جن كی نمائندگی میں ان تمام ممالک کے پرچم جلسہ گاہ میں لہرائے گئے تھے۔ پرچم کشائی کے بعد حضورِ انور چار بج کر ۳۵ منٹ پر نعروں کی گونج میں مردانہ جلسہ گاہ ميں رونق افروز ہوئے اور کرسئ صدارت پر فروکش ہوئے۔ حضورِ انور نے احباب جماعت کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عنایت فرمایا جس کے بعد افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔
جلسہ سالانہ کے افتتاحی سيشن کا آغاز سورۃ البقرہ کی ابتدائی ۸ آیات کی تلاوت سے ہوا۔ مکرم احسان احمد صاحب مربی سلسلہ کو تلاوت قرآن کریم اور اس کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مکرم عبد الحی سرمد صاحب متعلم جامعہ احمدیہ یوکے نے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ منظوم کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ بعد ازاں مکرم فارس نعیم صاحب متعلم جامعہ احمدیہ یوکے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم فارسی کلام سے منتخب اشعار پیش کیےجبکہ مکرم کاشف علی صاحب مربی سلسلہ و انچارج فارسی ڈیسک یوکے نے اس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔
اس کے بعد حضور انور نے پُرشوکت اور بصيرت افروز افتتاحي خطاب فرمايا جس کا مرکزي موضوع ’تقویٰ‘تھا۔
شام ساڑھے ۷ بجے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ گاہ کے کچھ حصوں بشمول بک سٹال و ایم ٹی اے مارکی کا دورہ فرمایا۔ اس دوران احباب جماعت اپنے آقا کو دیکھنے کے لیے بےتاب نظر آئے اور نعرے بلندکرکے خلافت احمدیہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے رہے۔
ہر سال کی طرح امسال بھی نمائش مارکی میں مختلف ادارہ جات کی طرف سے نمائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ جس میں الفضل انٹرنیشنل، ہیومینٹی فرسٹ، مخزن تصاویر، ہیومن رائٹس ڈیسک، مرکزی شعبہ تاریخ، جامعہ احمدیہ یوکے اور دیگر ادارہ جات شامل تھے۔ان نمائشوں کی تفصیل الفضل کے جلسہ سالانہ کے حوالے سے شائع ہونے والی خصوصی اشاعت میں پڑھی جا سکتی ہے۔
شام کے کھانے ميں روايتي آلو گوشت، دال اورلنگر کي لذيذ روٹي مہمانوں کي خدمت ميں پيش کي گئي۔
حضرت مسیح موعودؑ کے بیان فرمودہ جلسہ سالانہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد دوران سال اس جہان فانی سے کوچ کر جانے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت کرنا ہے۔ چنانچہ حضورؑ کے اس ارشاد کی تعمیل میں نماز مغرب سے قبل جلسہ گاہ کے سٹیج سے ان احباب جماعت کے نام پڑھ کر سنائے گئے جو دوران سال وفات پا گئے۔
حضور انور نے سوا نو بجے کے قریب مردانہ جلسہ گاہ ميں تشريف لاکر مغرب اور عشاء کي نمازيں پڑھائيں۔ نماز مغرب کي پہلي رکعت ميں سورة الفيل اور دوسري رکعت ميں سورة قريش کي تلاوت فرمائي جبکہ نماز عشاء کي پہلي رکعت ميں سورة الضحی اور دوسري رکعت ميں سورةالتين کي تلاوت فرمائي۔ اس طرح جلسہ سالانہ برطانيہ کا پہلا روز کاميابي کے ساتھ اپنے بابرکت اختتام کو پہنچا۔
٭…٭…٭
(از جلسہ گاہ حدیقۃالمہدی۲۵؍جولائی ۲۰۲۶ء)جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کا آغاز صبح سوا تین بجے نماز تہجد سے ہوا جو مکرم حافظ راحت احمد چیمہ صاحب نے پڑھائي۔ چار بج کر ۲۰؍منٹ پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے جلسہ گاہ ميں نمازِ فجر پڑھائي جس کي پہلي رکعت ميں سورة البقرہ کي ابتدائي آٹھ آيات اور دوسري رکعت ميں سورة البقرہ کي آيات نو تا سترہ کي تلاوت فرمائي۔ نماز فجر کے بعد مکرم محمود احمد طلحہ صاحب استادجامعہ احمديہ يو کے نے ’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘ کے موضوع پر درس ديا۔
صبح آٹھ بجے ناشتےکا انتظام کيا گيا تھا۔ ناشتےميں مہمانانِ کرام اور ڈيوٹي کنندگان کو چنے، روٹي، سيريل، مکھن، جام اور ڈبل روٹي پيش کي گئي ۔
کل کے ٹھنڈے موسم کے مقابل پر آج سورج اپنی آب و تاب سے چمکتا رہا۔ تاہم ہلکی ہوا نے موسم کو قدرے بہتر رکھا۔ تیز دھوپ کے باوجود احبابِ جماعت روحانی مائدہ کے حصول کے لیے جوق در جوق حدیقۃ المہدی تشریف لاتے رہے۔ آج بھی اندرون و بیرون ملک سے کثیر تعداد میں مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پُرمعارف خطابات، مقررین کی مدلل تقاریر اور فلک شگاف نعروں نے روحانی گرمائش کے سامان فراہم کیے۔
دوسرے روز کی کارروائی کا آغاز صبح دس بجے ہوا۔ جلسہ سالانہ کے دوسرے اجلاس کی صدارت کے فرائض مکرم و محترم محمد شریف عودہ صاحب امیر جماعت احمدیہ کبابیر نے سرانجام دیے۔ کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، مکرم حافظ مرفود احمد صاحب نے سورۃ النساء آیات ۵۸ تا ۶۰کی تلاوت کی اوراس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔مکرم خالد چغتائی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاکیزہ منظوم کلام سے منتخب اشعار پیش کیے۔
اجلاس کی پہلی تقریر مکرم مروان گِل صاحب صدر و مبلغ انچارج ارنجنٹائن نے ’’عالمی امن کا قیام انصاف کے قیام کے بغیر ممکن نہیں‘‘ کے موضوع پر کی۔ اس کے بعد مکرم ایاز محمود خان صاحب مربی سلسلہ ایڈیشنل وکالت تصنیف یوکے نے ’’خدا کی تلاش میں عاجزی کی اہمیت‘‘کےموضوع پر انگریزی زبان میں تقریرکی۔ان تقارير کے بعد مکرم عصام بھٹی صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام پیش کیا۔اجلاس کی آخری تقریر مکرم عطاء المومن زاہد صاحب استاد جامعہ احمدیہ یوکے نے ’’امام الزمان اور محبت الٰہی‘‘کے موضوع پر کی۔اس تقریر کے بعد مکرم طاہر خالد صاحب مربی سلسلہ نے اردو نظم پیش کی۔ جس کے بعد یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
جلسہ سالانہ کے دوسرے روز صبح مستورات کا خصوصي اجلاس بھي منعقد ہوا جس کی کارروائی کا آغاز صبح دس بجے ہوا۔ اجلاس کی صدارت مکرمہ ڈاکٹر قرۃالعین عینی صاحبہ نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ یوکے نے کی۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرمہ منصورہ امینی صاحبہ نے سورت آل عمران کی آیات ۱۹۱ تا ۱۹۵کی تلاوت کی اور اردو ترجمہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ پیش کیا۔ مکرمہ رضوانہ شمس صاحبہ نے حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام پیش کیا۔
مستورات کے اجلاس کی پہلی تقریر ڈاكٹر ملیحہ منصور صاحبہ معاونہ صدر واقفات نو لجنہ اماء اللہ یوکے کی انگریزی زبان میں تھی جس کا عنوان ’’آنحضرت ﷺ كی حیاتِ مباركہ محبتِ الٰہی كا زندہ ثبوت‘‘ تھا۔
اس اجلاس کی دوسری تقریر ڈاكٹر فریحہ خان صاحبہ سابق صدر لجنہ اماء اللہ یوکے نے ’’رسول اللہﷺ کی پیروی کے ذریعہ محبت الٰہی کا حصول‘‘ کے موضوع پر کی۔اس کے بعد محترمہ سلونی رشید صاحبہ نے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ منظوم کلام ترنم سے پیش کیا۔
اس اجلاس کی آخری تقریر ’’نورِخلافت حقیقی اسلام كی طرف راہنمائی كا ذریعہ‘‘ کے موضوع پر مکرمہ فرزین قریشی صاحبہ سیکرٹری نومبائعات۔ ھیورنگ یوکے نے کی۔اس تقریر کے ساتھ مستورات کے صبح کے اجلاس کی کارروائی مکمل ہوئی۔گذشتہ سالوں کی طرح امسال بھی اس اجلاس کي آڈيو دنيا بھر کے سامعين کے ليے يوٹيوب پر لائيو نشر کي گئي۔
دن بارہ بج کر سات منٹ پر حضور انور زنانہ پنڈال میں سٹیج پر رونق افروز ہوئے اور السلام علیکم و رحمةاللہ کا تحفہ عنایت فرمایا۔فضا مستورات کے پُر جوش اور والہانہ نعروں سے گونج اٹھی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم مع اردو ترجمہ سے ہوا۔ نظم کے بعد تعليمي ميدان ميں نماياں کاميابي حاصل کرنے والي طالبات کے نام پڑھ کر سنائے گئے۔ جس کے بعد حضور انورنےخواتین کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بصيرت افروز خطاب فرمايا۔ خطاب کے بعد حضور انور نے دعا کروائی جس کے بعد لجنہ و ناصرات نے حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ کي موجودگي ميں مختلف زبانوں ميں گروپس کي صورت ميں ترانے پیش کيے۔
خطاب کے بعد حضورِ انور نے مردانہ مارکي ميں تشريف لاکر نمازِ ظہر و عصر جمع کرکے پڑھائيں۔
نمازوں کي ادائيگي کے بعد کھانے کا انتظام کيا گيا۔ کھانے ميں دال، اچار اور روٹي پلانٹ کي لذيذ روٹي سے مہمانوں کي تواضع کي گئي۔اسي اثنا ميں مہمان، بازار کے کھانوں اور لوازمات سے بھي محظوظ ہوتے رہے۔
جلسہ سالانہ کے تيسرے اجلاس سے قبل معززين کے پيغامات پيش کيے گئے۔ مکرم رفيق احمدحيات صاحب امير جماعت احمديہ يوکے کي صدارت ميں يہ نشست ہوئي جس کا آغاز تلاوت قرآن کريم سے ہوا۔ اس نشست ميں جلسہ سالانہ اور جماعت کے حوالے سے معزز مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہارکيا اورکچھ مہمانوں نے ويڈيو کي صورت ميں بھي اپنے نيک جذبات کا اظہار کيا۔
جلسہ سالانہ کے تيسرے اجلاس کا باقاعدہ آغاز حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز کي آمد سے ہوا ۔ حضور انورايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز چار بج کرپانچ منٹ پر مردانہ پنڈال ميں رونق افروز ہوئے۔ پيارے آقا کے جلسہ گاہ میں رونق افروز ہوتے ہي شاملين نے والہانہ انداز ميں اپنے پيارے امام کا استقبال کيا اور پنڈال نعروں کي آواز سے گونج اٹھا۔
اجلاس کي کارروائي کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کريم سے ہوا۔ مکرم الحاج راشد خطاب صاحب نے سورۃ الصف کی آیات ۷تا ۱۲کی تلاوت کی۔ ان آیات کا اردو ترجمہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ مکرم حافظ محمد ظفر اللہ عاجزؔ صاحب مربی سلسلہ مدیر اعلیٰ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ مکرم مصور احمد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا منظوم کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے خطاب فرمايا جس ميں گذشتہ سال کے دوران جماعت پر ہونے والے افضالِ خدا وندي کا خلاصۃً ايمان افروز تذکرہ فرمایا۔ خطاب کے بعد حضور انور جلسہ گاہ سے تشريف لے گئے۔
آج بھی تمام دن نمائش مارکی اور بک سٹال پر احباب جماعت کا بھرپور رش رہا اوراحباب اپنے دینی علم کو بڑھانے کے لیے نمائش دیکھنے آئے اور بک سٹال سے کتب خریدتے رہے۔ حضور انور کے دوسرے روز کے خطاب کے بعد نمائش مارکی لجنہ کے لیے مختص تھی جس میں خواتین نے بھرپور تعداد میں نمائش مارکی کا رخ کیا۔
شام کے کھانے ميں روايتي آلو گوشت، چاول اور لنگر کي لذيذ روٹي مہمانوں کي خدمت ميں پيش کي گئي۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مغرب اور عشاء کي نمازيں مردانہ جلسہ گاہ ميں جمع کرکے پڑھائيں۔ حضور انور نے نماز مغرب میں سورۃالفلق اور سورۃ الناس جبکہ نماز عشاء میں پہلی رکعت میں سورۃ البقرہ کی آیت ۲۵۶ اور دوسری رکعت میں سورۃ البقرہ کی آیت ۲۸۷کی تلاوت فرمائی۔ نماز مغرب و عشاء سے قبل وفات پانے والے مرد و خواتین کے نام ذکر خیر کے لیے پڑھ کر سنائے گئے۔
اس طرح جلسہ سالانہ کا دوسرا دن اختتام کو پہنچا۔
٭…٭…٭
(از جلسہ گاہ، حدیقۃ المہدی ۲۶؍جولائی ۲۰۲۶ء)جلسہ سالانہ کے تيسرے دن کا آغاز صبح سوا تین بجے نماز تہجد سے ہوا جو مکرم حافظ مشہود احمد صاحب استاد جامعہ احمدیہ یوکے نے پڑھائي۔ صبح چار بج کر بیس منٹ پر حضور انور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے جلسہ گاہ ميں نمازِ فجر پڑھائي جس کي پہلي رکعت ميں سورة الکھف کي آيات ۱۰۳تا ۱۰۷ جبکہ دوسري رکعت ميں ۱۰۸تا۱۱۱کی تلاوت فرمائي۔ نمازِفجر کے بعد مکرم راجہ برہان احمد صاحب مربي سلسلہ و استاد جامعہ احمديہ يوکے نے ’’محبت الٰہی‘‘ کے عنوان پر درس دیا۔
آج بالعموم موسم ٹھنڈا رہا۔ نماز تہجد کے کچھ دیر بعد بارش ہوئی جس کے بعد موسم ٹھنڈا ہوگیا۔ تاہم دن کے اکثر حصہ میں دھوپ نکلی رہی۔ اس طرح دھوپ، بارش اور ٹھنڈی ہوا کی آنکھ مچولی سارا دن چلتی رہی۔
نماز فجر کے بعد مہمانانِ کرام کو گرم چائے کے ساتھ اُبلے انڈے بھی پیش کیے گئے۔ جبکہ باقاعدہ ناشتے کا انتظام صبح آٹھ بجے کيا گيا تھا۔ ناشتے ميںمہمانانِ کرام اور ڈيوٹي کنندگان کو چنے، روٹي، سيريل، مکھن، جام اور ڈبل روٹي پيش کيے گئے۔جلسہ کے آخري دن بھی مہمانوں کی ایک بڑی تعداد نے جلسہ گاہ کا رخ کیا اور مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔
جلسہ سالانہ کے تيسرےاجلاس کا آغاز صبح دس بجے ہوا جس کي صدارت کے فرائض مکرم حافظ مخدوم شریف صاحب ایڈیشنل ناظر اعلیٰ جنوبی ہند و ناظر نشر و اشاعت نے سرانجام ديے۔ کارروائي کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن کريم اور ترجمہ کے ساتھ ہواجو مکرم خان فرید احمد صاحب متعلم جامعہ احمدیہ یوکے نے پيش کيے۔ مکرم صبور بھٹی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام پيش کيا۔اجلاس کی پہلي تقرير مکرم وسیم احمد فضل صاحب استادجامعہ احمدیہ یوکے نے ’’شرائط بیعت کے ادراک اور ان پر ثبات قدم میں ہی خلیفۂ وقت سے محبت اور ان کی اطاعت کا دار و مدار ہے ‘‘کے موضوع پر کی۔ اس کے بعد مکرم ڈاکٹر زاہد خان صاحب صدر قضا بورڈ یوکے نے ’’الہامی کتب میں خدا کا تصور اور اسلام كے ساتھ اس کا تقابل ‘‘کے موضوع پر انگریزی زبان میں تقریر پيش کي۔اس کے بعد مکرم صہیب احمد صاحب حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام پیش کیا۔ اس اجلاس کي تيسري تقرير ’’قرآن کریم جواہرات کی تھیلی ہے‘‘ کے موضوع پر مکرم نصیراحمد قمر صاحب ایڈیشنل وکیل الاشاعت یوکےنے اردو زبان میںپیش کي۔اس اجلاس کی آخری تقریر مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ یوکے نے انگریزی زبان میں بعنوان ’’حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی انسانیت سے بے مثال محبت‘‘ کی۔
بعد ازاں عالمي بیعت کے لیے اعلانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۱ بج کر ۱۰ منٹ پر حضور پُرنور پنڈال میں تشریف لائے۔ مسيح محمديؑ کے غلام اس لمحہ کا بے صبری سے انتظار کررہے تھے۔ ان میں وہ افراد بھی شامل تھے جو خلیفۃ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کرکے جماعت احمدیہ مسلمہ میں داخل ہونے والے تھے اور وہ احمدی بھی شامل تھے جو اپنے امام کے ہاتھ پر تجدید بيعت کرنے کے منتظر تھے۔ حضور انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا بابرکت کوٹ زیب تن فرمایا ہوا تھا۔ حضور انور نے پہلے بيعت کےمبارک الفاظ انگريزي اور دوسري بار اردو ميں دہرائے اور تیسری مرتبہ انگریزی میں پھر دہرائےجن کا مختلف زبانوں میں رواں ترجمہ بھی ہوا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔ اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ حضور انور نے اس موقع پر یہ بھی اعلان فرمایا کہ اس سال ۲؍لاکھ ۶۷؍ہزار ۵۹۶؍نئے افراد جماعت احمدیہ مسلمہ میں داخل ہوئے۔ بعدازاں حضورِ انور نے نماز ظہر و عصر جمع کرکےپڑھائيں۔
نمازوں کي ادائيگي کے بعد کھانے کي مارکي ميں کھانے کا انتظام کيا گيا۔کھانے ميں آلو گوشت، چاول اور روٹي پلانٹ کي لذيذ روٹي سے مہمانوں کي تواضع کي گئي۔ مہمانان بازار کے کھانوں سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔ بازار میں برگر،مچھلی،کباب،جلیبی، قلفی، فالودہ وغیرہ دستیاب تھے۔
جلسہ سالانہ کے آخري اجلاس سے قبل معززين کے پيغامات پيش کيے گئے۔ مکرم رفيق احمدحيات صاحب امير جماعت احمديہ يوکے کي صدارت ميں يہ نشست ہوئي ،جس کا آغازتلاوتِ قرآن ِکريم سے ہوا۔ اس نشست ميں جلسہ اور جماعت کی مساعی کے حوالے سے معزز مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کيا۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے معززين کي طرف سے ويڈيو پيغامات موصول ہوئے جن کو جلسہ گاہ ميں موجود بڑي سکرين پر چلايا گيا۔ اس کے علاوہ ہال میں موجود مہمانوں نے بھی اپنے تاثرات کااظہار کیا۔
اختتامی اجلاس کي باقاعدہ کارروائي کا آغاز تلاوت قرآن کريم سے ہوا۔ مکرم مولانا فیروز عالم صاحب مربی سلسلہ کو سورۃ النور کی آیات ۵۲ تا ۵۷ کی تلاوت اور تفسیر صغیر سے اس کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی توفیق ملی۔ اس کے بعد امیر صاحب جماعت احمدیہ یوکے نے شاہ چارلس سوم کا موصولہ خصوصي پيغام پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد فرج عودہ صاحب نےحضرت مسیح موعودؑ کا عربی قصیدہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جبکہ ان اشعار کا اردو ترجمہ مکرم میر انجم پرویز صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم مرتضیٰ منان صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے منظوم اردو کلام میں سے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھے۔اس کے بعد مکرم نیشنل سيکرٹري صاحب تعليم جماعت احمدیہ يوکے نے تعليمي ميدان ميں نماياں کاميابي حاصل کرنے والے طلبہ کے نام پڑھ کر سنائے۔اس کے بعد امیر صاحب یوکے نے احمدیہ امن انعام برائے سال ۲۰۲۶ء کا اعلان فرمایا۔ ۲۰۲۶ء کے لیے تھائی لینڈ کے Sampop Jantraka اس انعام کے حقدار قرار پائے ہیں۔ انہیں یہ انعام شمالی تھائی لینڈ میں انسانی اسمگلنگ کے خطرات سے دوچار بچوں، خصوصاً بے وطن قبائلی بچیوں کے تحفظ کے لیے کاوشوں کے اعتراف میں دیا جارہا ہے۔ اس کے بعد حضورانور ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز منبر پر تشريف لائے اور اختتامي خطاب کا آغاز فرمايا جس کا مرکزی موضوع شرائط بیعت اور ہماری ذمہ داریاں تھا۔
حضورِ انور کا خطاب قریباً چھ بجے اختتام پذیر ہوا جس کے بعد حضورِ انور نے اختتامی دعا کروائی۔ دعا کے بعد حضور انور نے فرمایا کہ اس سال جلسہ سالانہ کی حاضری۵۱؍ہزار ۱۸۱؍ ہے۔ بعد ازاں پیارے آقا کی خدمت میں عشاق خلافت احمديہ نے مختلف گروپس کی صورت میں دنیا کی مختلف زبانوں اور ثقافتوں کی نمائندگی میں ترانے پیش کیے۔ اس کے بعد حضورِ انور جلسہ گاہ سے تشریف لے گئے اور اسی کے ساتھ جلسہ سالانہ اپنی تمام تر برکات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
احبابِ جماعت احمدیہ عالمگیر کو جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس جلسہ کے مقاصد کو اپنی زندگیوں کا مستقل حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہیومینٹی فرسٹ کی سرگرمیاں(۶۰؍ واں جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء)



