متفرق شعراء

وہ دربارِ خلافت ہے وہ جلسہ ہے جماعت کا

سجی ہے بزمِ عشاقِ مسیح و مہدیِٔ دوراںؑ
ہوئے پھر مجلسِ عرفان و حکمت کے سبھی ساماں
دلوں سے ایک دل کا رشتۂِ الفت ذرا دیکھو
اُمڈ آئے تمنائی برائے درشنِ جاناں

دلوں میں نور کی لہریں سرایت کرتی جاتی ہیں
ہر اک نفسانی خواہش کو جو پل بھر میں مٹاتی ہیں
یہ ہیں مردِ خدا کے جذب روحانی کی تاثیریں
جو من کو کر کے صیقل یار کا رخ بھی دکھاتی ہیں

ملائک ایسی محفل پر پروں سے سایہ کرتے ہیں
خدا کی رحمتیں لے کر بکثرت وہ اترتے ہیں
خدا کے ذکر کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے
زمیں سے آسماں تک حمد کے گل بھی بکھرتے ہیں

جہاں پر ذوق بڑھتا ہے تقشف اور ریاضت کا
امامِ وقت کی تقلید میں زہد و عبادت کا
محبت معرفت کے سِرّ جہاں پر افشا ہوتے ہیں
وہ دربارِ خلافت ہے وہ جلسہ ہے جماعت کا

(ابو بلال)

مزید پڑھیں: حمدِ باری تعالیٰ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button